(ملفوظ 95)اخلاق متعارفہ سے اصلاح نہیں ہوسکتی :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر میں اخلاق متعارفہ اختیار کروں اور تمہاری للوپتو میں رہوں تو تمہاری اصلاح کیسے ہو باقی اصلاح کے اس طرز خاص میں مجھ کو اپنی کسی بات اور کسی کام اورکسی حالت پر ناز نہیں اور ناز توکس چڑیا کانام ہےمیں تو واقعی اپنے کو کلب اورخنزیر سے بدتر سمجھتاہوں بھلاکوئی اس کاکیا یقین کرسکتاہے اس لیے میں بتلاتا ہوں کہ خنزیر سے بدتر سمجھنا اس معنی کرہے کہ ان میں عقوبت کا احتمال نہیں اورہم میں عقوبت اورعذاب کا احتمال ہے اب بتلاؤ کون اچھا ہے نیز باب اصلاح میں میں بحمداللہ امیں ہوں یعنی کسی کی حالت کی اطلاع دوسرے کو نہیں کرتا اگر کسی کامضمون نقل کراتا ہوں تواس کانام نہیں نقل کراتا کہ یہ کس کا مضمون ہے غرض میں ہرقسم کی رعایت کو ملحوظ رکھتاہوں اورامراض باطنی کاسہل سے سہل علاج تجویز کرتا ہوں اورکسی مرض کو لاعلاج نہیں مگرطب روحانی میں بحمد اللہ کہیں گاڑی نہیں اٹکتی پھرجب اتنی رعایتوں پربھی مجھ کو اذیت دی جاوے توکہاں تک تغیرنہ ہو آخرمیں بھی انسان ہوں بشرہوں تومجھ کواس قدر ستایا ہی کیوں جاتا ہے اس پر کچھ کہتا ہوں تو مجھ کوبدخلق اورسخت گیرمشہور کرتے ہیں اوراپنی حرکت کو نہیں دیکھتے اس کی بالکل ایسی مثال ہےکہ چپکے سے ایک شخص کے سوئی چھبودی اور الگ ہوگئے اب وہ چیخ رہاہے چلارہاہے جھلا رہاہے اس کے چیخنے اور چلانے اورجھلانے کوتو سب دیکھ رہے ہیں مگر اس کے سوئی چھبونے کو کسی نے نہیں دیکھا پھراس پریہ کہا جائے کہ میاں ایک ذراسی سوئی ہی تو چھبوئی ہے اس قدر غل کیوں مچاتے ہو جی ہاں جب تمہاے چھبوئی جائے تب پتہ چلے اگرکہوں کہ ہم توبرداشت کرسکتے ہیں تومیں کہوں گا کہ تم بے حس ہوجیسے فالج زدہ پر کوئی اثرنہیں ہوتا دوسرا توبے حس نہیں اس کو محسوس ہوتا ہے ۔