( ملفوظ 623)اختیاری و غیر اختیاری کا فرق نصف سلوک ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امور اختیاریہ کا اہتمام کرو اور غیر اختیاریہ کا پیچھا چھوڑو بس یہ نصف سلوک ہے بلکہ اگر تعمق کی نظر سے دیکھا جائے توکل ہی سلوک ہے آج کل غیر اختیاری کاموں کے پیچھے پڑنے کی وجہ سے لوگ بہت ہی زیادہ پریشان ہیں سو اس کے لئے ضرورت ہے کہ کسی کی صحبت میں رہے اس کی صحبت میں رہ کر راہ معلوم ہو گی اور منزل پر پہنچ جائے گا مثلا نماز میں ناواقفی سے جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوا اب پریشانی ہو گی دیکھنا یہ ہے کہ جس حضور کو تم چاہتے ہو وہ اختیاری ہے یا غیر اختیاری اختیار تو صرف اتنا ہے کہ نماز کی طرف قصد اور توجہ سے لگا رہنا اب اس پر قطع خواطر کا ثمرہ یہ دوسری چیز ہے سو قصد اور توجہ تو اختیاری ہے اور ثمرہ مذکورہ غیر اختیاری پس اگر یہ ثمرہ نہ بھی مرتب ہو تب بھی حضور میسر ہے پریشان نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ غیر اختیاری چیز کبھی مقصود کے منافی نہیں ہوتی مثلا ایک شخص عملا سخی ہے مگر طبعا بخیل ہے تو طبعا جو بخل ہے جب تک اس کے اقتضاء پر عمل نہ کرے گا یہ منافی مقصود کے نہیں کمال مقصود اس کو حاصل ہے اور چند روز کی مقاومت سے وہ داعیہ الی الشر بھی مضمحل ہو جائے گا اور میں تو کہتا ہوں کہ اگر ساری عمر بھی یوں ہی گزر جائے اور وہ داعیہ مضمحل نہ ہو تب بھی نقصان کیا ہوا بلکہ اس کشمکش کی وجہ سے نفع ہوا کہ اجر بڑھ گیا ۔