(ماقب بہ العون النفیس فی الصون عن التلبیس ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا بجز اسلام کے آج کل ہرمذہب میں تلبیس سے کام لیا جارہا ہے ایک ہندو نومسلم جوپہلے مستقل مہنت تھا کانپورمیں میرے پاس آیا اور یہ کہا کہ میں دنیا میں خدا کا دیدار کرنا چاہتا ہوں اور اس کی تلاش میں میں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ صرف کردیا مگرناکام رہا ہندو ہونے کے زمانہ میں ایک پوجاری نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھ کو پرمیشور کی جوت دکھلادوں گا مگر اس نے چالاکی یہ کی کہ شب کے وقت ایک کچھوے کی پشت پربہت سا گارا رکھ کر جما کر اس پر ایک چراغ جلاکر مجھ کواس سے ذرا فاصلہ پرلے گیا اور اس اشارہ کیا سووہ چل رہاتھا دور سے کہا کہ دیکھ وہ ہے پرمیشور کی جوت میں نے جواس کو دیکھا تواس کودیکھا تواس کی حرکت سے شبہ ہوا کہ اس میں وقار کیوں نہیں جب اطمینان نہ ہوا تو میں پاس پہنچا اس پوجاری نے ہرچند مجھ کو روکا ہاتھ بھی پکڑلیا کہ بچہ وہاں مت جا جل جائے گا مگر میں نہ رکا پہنچ ہی گیا جاکردیکھا تو یہ کاروائی ہے میں نے اس سے کہا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہا کہ بس میرے پاس تو یہی ہے باقی پوری حلوے کی کمی نہیں اگردل چاہے رہو اور عیش کرو میں نے کہا یہ چیزیں تو میں خود چھوڑ کر آیا ہوں پھرخیال ہوا کہ مسلمان ہونا چاہئے شاید وہاں یہ چیز نصیب ہوجائے یہ سب سن کر میں نے اس شخص سے کہا کہ تم دھوکے میں ہو اور تمہارے اسلام لانے کی یہ بناء ہے تو ہم صاف کہے دیتے ہیں کہ اسلام میں بھی دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہو سکتا ہاں آخرت میں وعدہ ہے پھرمیں کہا کہ جب تم اس میں ناکام رہوگے اورتمہارے اسلام کی یہ ہی بناء ہے تو شبہ ہوتا ہے کہ تم اسلام کو بھی چھوڑدوگے کہنے لگا کہ اسلام میں توحید ایسی کامل ہے کہ کہیں اورکسی مذہب میں نہیں اس لئے اسلام کو نہیں چھوڑسکتا میں نے کہا کہ اسلام میں کیا توحید کامل ہے مجھ کو یہ انتظارتھا کہ دیکھو کیا دلیل بیان کرتا ہے جس پراطمینان ہے کہنے لگا کہ اگرکوئی مسلمان ہوجاتا ہے اس کوسب مسلمان اپنے برابر سمجھنے لگتے ہیں یہ دلیل تھی اس کے پاس اسلام میں توحید کامل ہونے کی جوظاہرا کوئی بڑی برہانی بات نہیں مگر حق تعالیٰ کا جس پر فضل ہوتا ہے اور اس کو رحمت سے نوازتے ہیں وہاں کسی مانع کا دخل نہیں ہوتا ظاہرا تو جب وہ اسلام لاکر بھی اپنے مقصد میں ناکام ہوا توجواسلام کا داعی تھا وہ رخصت ہوجانا چاہئے تھا مگر یہ برکت اس کے خلوص نیت کی تھی چونکہ وہ ان کی ملاقات کا متلاشی تھا اس پریہ فضل ہوا کہ اس کو اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمادی ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذو فضل العظیم اس قصہ میں جو اس نو مسلم سے بلا تلبیس حق بات صاف کہہ دی تھی اس پر ایک دوسرا قصہ بیان کیا کہ ایک ہندو جلال آباد میں تھا معزز رئیس تھا اس نے اتفاق سے ایک وعظ میں شرکت کی تھی اس کے سننے کے بعد اس نے چاہا تھا کہ میں اس تصوف کی تعلیم دوں کئی باررفعے پرچے چلے اورمیں نے اس کو خاص خاص عنوانات سےحق کی دعوت دی مگر سمجھا نہیں ایک رقعہ میں میں نے اس کو صاف لکھ دیا اگر ہم سے تصوف لینا ہے تو ایک شرط کی ضرورت ہے ہرطریق میں کچھ شرائط ہوتے ہیں جو تصوف ہم کو پہنچا ہے اس میں اسلام شرط ہے بس مایوس ہوکر بیٹھ گیا اسی عدم تلبیس کے سلسلہ میں فرمایا کہ جیسے میرے یہاں اپنے نقائض کے اخفا کا اہتمام نہیں ایسے ہی اپنے محاسن کے خفا کا بھی اہتمام نہیں جو بھی حالت ہے کھلی ہوئی ہے اب خواہ کوئی نقائض سے غیر معتقد ہوجائے خواہ محاسن پر معتقد مجموعہ پر نظر کرکے اعتقاد میں بھی کسی کو غلونہ ہوگا وہ وسط رہے گا پالیسی بمعنی فریب اور پالیسی بمعنی خوشامد دونوں سے بحمد اللہ مجھ کو ہمیشہ سے نفرت ہے میں توکہا کرتا ہوں کہ انگریزی کی پالیسی اورفارسی کی پالیسی دونوں قابل نفرت ہیں اور بناوٹ پرمعتقد ہونے والے کا اعتبار ہی کیا آخر انسان ہے کہا تک بنے گا ہمیشہ بنتے رہنا بڑا مشکل کام ہے اورجس طرح مصلح کو ضرورت ہے طالبین کو تلبیس سے بچاوے اسی طرح طالبین کو بھی سخت ضرورت ہے کہ تعیین مصلح میں نہایت احتیاط سے کام لیں اور تلبیس سے بچیں اور یہ سب احتیاطیں حالت موجودہ کے متعلق ہوسکتی ہیں باقی انجام کے متعلق جوکہ اس وقت محض مخفی ہے کوئی انتظام نہیں ہوسکتا بجزاس کے کہ جس وقت اس کا ظہور ہو اس سے قطع تعلق کروے کسی کو دلائل صحیحہ سے صاحب کمال سمجھا گیا مگر باوجود اس کے پھر اس کو رجعت ہوئی تواس وقت یہی حکم کیا جائے گا کہ سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلی ظاہری حالت واقع میں ولایت ہی نہ تھی جیسے طب کا مسئلہ ہے کہ دق کا مریض اگراچھا ہوگیا تو کہاں جاتا ہے کہ وہ دق ہی نہ تھی طبیب کی تشخیص میں غلطی ہوئی ایسے ہی ایسی حالت میں کسی کو صاحب کمال سمجھنے میں غلطی ہوئی وہ پہلے ہی سے صاحب کمال نہ تھا بعض صورتیں اشتباہ کی ایسی بھی ہوتی ہے کہ غیر حقائق پرحقائق کا دھوکہ ہوجاتا ہے جیسے صبح کا ذب پرصبح صادق کا دھوکہ ہوجاتا ہے اسی کومولانا فرماتے ہیں
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ببیں
( توجوصبح کاذب کا متبع ہورہاہے ، صبح صادق اور صبح کاذب میں امتیاز ۔ 12)
دیکھئے ابلیس کو اپنے متعلق ہی دھوکہ ہو اور نہ واقع میں اس کو کبھی نسبت اور قریب میسر نہیں ہوا اور آسمان پرچلا جانا یہ کیسی دلیل سے علامت مقبولیت کی نہیں البتہ مکان کو مطہرکہیں گے اس سے آگے کوئی بات اس کے کامل ہونے کی دلیل نہیں باقی یہ اعمال صالحہ ابلیس کے تھے وہ محض صورۃ تھے حقیقتہ نہ تھے مگر فتوے کے درجہ میں حقیقت معتبرنہیں اس لئے کبھی کسی آدمی کو بھروسہ نہیں کرنا چاہئے کہ میری حالت اخیرتک مامون ہی رہے گی میرے ابتدائی عربی کتابوں کے استاد نے جومکہ کے ایک ثقہ عالم تھے ایک حکایت بیان فرمائی کہ اتفاق سے مکہ سیلاب آیا جس سے ایک عالم کی قبر کھل گئی مگر دیکھا کہ بجائے اس میت کے ایک عورت نہایت حسین اس قبر میں ہے تعجب ہوا کہ وہ شخص جواس قبر میں دفن ہوا تھا اس کے بجائے یہ عورت قبرمیں کیسے ہے ایک آفاقی حاجی شخص نے بیان کیا کہ میں اس کو پہچانتا ہوں یہ ایک لندن کے انگریز کی بیٹی ہے جومجھ سے تعلیم حاصل کرتی تھی اورخفیہ مسلمان ہوکرمرگئی لوگوں نے یہ انتطام کیا کہ اس شخص کو مع دومکی لوگوں کے لندن بھیجا کہ وہاں اس کی قبر کھول کر دیکھو چنانچہ اس قبر میں اس مکی عالم کی میت کی نعش دیکھی گئی جس کوان دومکی ہمراہیوں نے پہچانا یہ سب واپس آئے اور بیان کیا اورحیرت بڑھی لوگوں نے اس کی مکھی شخص کے مکان پرپہنچ کر اس کی بیوی سے پوچھا کہ یہ شخص ایسا کیا یہ برا عمل کرتا تھا جس کی یہ سزادی گئی بیوی نے کہا کہ یہ جب مجھ سے مقاربت کرتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ جنابت کے مسئلہ میں عیسائیت کا مذہب بڑے آرام کا ہے کہ جنابت کا غسل نہیں ایسی حالت میں اپنی حالت کے پرکیا ناز کرے کسی کو کیا حقیر سمجھتے اس لئے کہ کیا خبرہے کسی کوخدا کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے بعض فساق فجار میں بھی خود فسق وفجور کے زمانہ میں ایسی بات ہوتی ہے کہ وہ بیڑا پار کردیتی ہے لکھنؤمیں ایک خان صاحب تھے رند مشرب بڑے آزاد دنیا بھر کے عیوب ان میں تھے عمر ڈھل چلی تھی اہل محلہ سمجھاتے کہ میاں ضعیفی کا زمانہ ہے اب توتوبہ کرلو نماز شروع کردووہ کہتے کہ اس سے کیا ملے گا لوگ کہتے ہیں کہ جنت ملے گی وہ کہتے کہ میاں جنت کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کون کرے جنت چلی جائے گی اور جنت میں جا کھڑے ہوں گے جس وقت مولانا امیرعلی صاحب نے ہنومان گڈی پربت پرستوں کے مقابلہ میں جہاد شروع کیا خان صاحب کو معلوم ہوا مولانا کے پاس پہنچے اورعرض کیا کہ مولانا کیا ہم جیسے گنہگاروں کو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں گے مولانا نے فرمایا کہ کون امرمانعی ہے خان صاحب ہاتھ میں تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے واقعی ایک ہاتھ سے خان صاحب شہید ہوگئے اور جنت میں داخل ہوگئے تویہ بات دین کی حمیت خاں صاحب میں عین جہاد کے وقت تھوڑا ہی پیدائش ہوئی تھی یہ پہلے ہی سے قلب میں تھی جس کی کسی کو خبر بھی نہ تھی اور بات یہ ہے علم علٰی شانہ کے ساتھ تعلق اورمحبت یہ بھی ایک عمل مخفی ہے جس کی بدولت خان صاحب کو یہ دولت نصیب ہوئی ، ایک شخص مار ہرہ میں تھا نہایت ہی اوباش لا اوبالی لوگ کہتے کہ میاں خدا کوبھی مبہ دکھلانا ہے ان حرکات سے توبہ کرلو جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارے اللہ میاں تم کون دخل دینے والے ایک دن دفعتہ بیٹھے بیٹھے بیساختہ اس کے منہ سے نکلا کہ میاں میرا کیا حال ہوگا پھر اور کوئی کلمہ دنیا کا زبان سے نہیں نکلا اور رونا شروع کیا اسی حالت میں دو تین روز کے بعد اسی پرختم ہوگیا اورجان دیدی اب یہ شخص قتیل محبت وہیت ہونے کی وجہ سے شہداء میں سے ہے توکیا کسی کو حقیر اورذلیل سمجھا جا سکتا ہے اسی فرماتے ہیں
گناہ آئینہ عفو و رحمت ست اے شیخ مبیں بچشم حقارت گناہ گاراں را ،
(اے شیخ گناہ ( جس کے بعد توبہ نصیب ہوجاوے ) عفوو رحمت کا آئینہ ہے ( کیونکہ اگرگناہ نہ ہوتا تو توبہ کس چیز سے ہوتی اور توبہ نہ ہوتی تو عفود رحمت کا ظہور کیسے ہوتا ) لہذا گناہگاروں کو (اس حیثیث سے کہ وہ مظہر نہیں رحمت و عفو الہی کے ) چشم حقارت سے مت دیکھو ۔ 12)
