ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مدت سے بہت بڑا حصہ تصوف کا مردہ ہوچکا تھا کام کرنے والوں کو بھی خبرنہ تھی کہ ہم کیا کررہے ہیں اور اس کا کیا انجام ہے بس اندھیری کوٹھڑی میں الاد ہند چلے جارہے تھے کچھ خبر نہ تھی خواہ سرپھوٹے یا ٹانگ ٹوٹے اب بحمداللہ طریق کافی طور پرواضح ہوگیا مدتوں کے بعد یہ طریق زندہ ہوا ہے گواب بھی بدفہم لوگ اس فکر میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اصلاح کا باب بند ہوجائے مگر چاہا ہوا توحق ہوا توحق سبحانہ تعالٰٰی ہی کا ہوتا ہے اور کسی کے چاہے سے ہوتا ہی کیا ہے فرماتے ہیں ۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا یمسک لہا وما یمسک فلامرسل لہ من بعدہ وھوالعزیزالحکیم اب ان شاءاللہ تعالیٰ صدیوں تک کے لئے طریق بے غبار ہوگیا اور اگر پھربھی کچھ گڑبڑ ہوئی توحق تعالٰی اور کسی کو پیدا فرما دیں گے یہ ان کی رحمت ہے جس سے چاہے اپنا کام لے لیں کسی خاص شخص پرموقوف نہیں ۔
