(ملفوظ 376)اللہ والوں کی عجیب شان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کوکسی ظاہری شان وشوکت کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے اندر سب کچھ ہے بہت س کمالات ان حضرات کے ایسے ہوتے ہیں کہ بیان میں بھی نہیں آسکتے اگرذوق اورفہم سلیم ہوتو وجدان ہی سے معلوم ہوسکتے ہیں اس پرمیں ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
خوبی ہمیں کرشمہ و ناز نیست ٭ بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست
(سخن یہ ظاہری ناز وانداز ہی نہیں ہے حسینوں کے اندر بہت سی ادائیں ایسی ہوتی ہیں جوبیان میں نہیں آسکتی )
سوہم تم پرہنستے ہیں جیسا تم ہم پرہنستے ہو۔
ان کی تویہ شان ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
اے دل آں بہ خراب از مئے گگون باشی ٭ بے زرو بصد حشمت قارون باشی
اور فرماتے ہیں :
دل فریباں بناتی ہمہ زیور بستند دل برماست کہ باحسن خدا داد آمد
اور فرماتے ہیں :
نباشد اہل وطن درپے آرا یش ظاہر بنقاش احیتا جے نیست دیوار گلستان را
( اے دل بہتر ہے کہ شراب عشق میں مست رہو اور بغیر ظاہری دولت وثروت کے (عمدہ قلبی کی وجہ سے ایسے رہو کہ ) قارون کے برابر سینکڑوں خزانوں کے مالک ہو ) محبوبان مجازی تو بناؤ سنگھار کے محتاج ہیں ہمارا محبوب وہ ہے جس کو حسن حقیقی حاصل ہے ) ( اہل باطن ظاہری زیب وزینت کے درپے نہیں ہوتا ( جیسا کہ ) باغ کی دیوارکو رنگ وروغن کے پھول بوٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس پر تواصلی پھول کھلے ہوئے ہیں