ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ والوں کی شان ہی جدا ہوتی ہے ان کوکسی ظاہری شان وشوکت کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے اندر سب کچھ ہے بہت س کمالات ان حضرات کے ایسے ہوتے ہیں کہ بیان میں بھی نہیں آسکتے اگرذوق اورفہم سلیم ہوتو وجدان ہی سے معلوم ہوسکتے ہیں اس پرمیں ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
خوبی ہمیں کرشمہ و ناز نیست ٭ بسیار شیوہ ہاست بتاں را کہ نام نیست
(سخن یہ ظاہری ناز وانداز ہی نہیں ہے حسینوں کے اندر بہت سی ادائیں ایسی ہوتی ہیں جوبیان میں نہیں آسکتی )
سوہم تم پرہنستے ہیں جیسا تم ہم پرہنستے ہو۔
ان کی تویہ شان ہوتی ہے جس کو فرماتے ہیں :
اے دل آں بہ خراب از مئے گگون باشی ٭ بے زرو بصد حشمت قارون باشی
اور فرماتے ہیں :
دل فریباں بناتی ہمہ زیور بستند دل برماست کہ باحسن خدا داد آمد
اور فرماتے ہیں :
نباشد اہل وطن درپے آرا یش ظاہر بنقاش احیتا جے نیست دیوار گلستان را
( اے دل بہتر ہے کہ شراب عشق میں مست رہو اور بغیر ظاہری دولت وثروت کے (عمدہ قلبی کی وجہ سے ایسے رہو کہ ) قارون کے برابر سینکڑوں خزانوں کے مالک ہو ) محبوبان مجازی تو بناؤ سنگھار کے محتاج ہیں ہمارا محبوب وہ ہے جس کو حسن حقیقی حاصل ہے ) ( اہل باطن ظاہری زیب وزینت کے درپے نہیں ہوتا ( جیسا کہ ) باغ کی دیوارکو رنگ وروغن کے پھول بوٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس پر تواصلی پھول کھلے ہوئے ہیں
