( ملفوظ 257) آمدنی اختیار میں نہیں مگر خرچ اختیار میں ہے

فرمایا کہ ایک مہتمم مدرسہ کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ خرچ مدرسہ کا بڑھا ہوا ہے اور آمدنی ہے نہیں سخت پریشانی ہے فرمایا میں تو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اسکی وحی تو ہوئی نہیں کہ فلاں خاص پیمانہ پر ہو مدرسہ کہلائیگا ورنہ نہیں ـ ارے بھائی کام کم کردو خرچ خود کم کو جائے گا ـ اور اگر بالکل بھی آمدنی نہ ہو مدرسہ بند کردو کوئی فرض نہیں واجب نہیں اور ظاہر ہے کہ آمدنی کا ہونا تو اختیاری بات نہیں مگر خرچ کا کم کر دینا اختیاری بات ہے ـ ایک رئیس تھے میرٹھ میں انہوں نے بڑے کام کی بات کہی تھی کہ لوگ عموما آمدنی بڑھانے کی فکر کرتے ہیں جو غیر اختیاری ہے خرچ گھٹانے کی فکر نہیں کرتے ـ جو اختیاری ہے واقعی بڑے کام کی بات کہی ـ اکثر دنیا داروں کو تو ایسی حکمت کی باتیں سوجھتی بھی ہے ان کو تو اپنے تنغم اور عیش ہی سے فرصت نہیں ملتی ـ