ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عمل تواگر دشواری ہوتو شروع کردے پھرسہولت بھی حق تعالی ٰ میسر فرمادیتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں فاما من اعطی ٰ واتقی ٰ وصدق بالحسنی ٰ فسنیسرہ للیسریٰ اے ہمارے اکابر تسہیل کا بہت قصد کرتے ہیں مگربعض چیز سہولت کی ہوتی ہی نہیں کیا کیا جاوے ایک شخص بی اے ہیں وہ یہاں پرآئے تھے ہیں سمجھدار شخص یہاں سے وطن واپس جاکر لکھا کہ میرے اندر کبرکا مرض ہے اور نفس اس لکھنے پربھی تیار نہیں کہ کبر کو اپنی طرف منسوب کرے میں نے لکھا کہ یہ مضمون مجھ کو پانچ مرتبہ لکھ کربھیج دو پانچ مرتبہ بھی نہیں لکھنے پائے کہ مرض سے شفاہوگئی اب اس سے زیادہ اور کیا تسہیل ہوگی اب وہ بتلائیں جواس طریق کو بدعت کہتے ہیں کہ اس میں بدعت کی کونسی بات ہے یہ تو تدابیر ہیں جیسے طبیب جسمانی امراض کی تدابیراختیار کرتاہے ایسے ہی اس طریق میں خاص تدابیر ہیں ان ہی تدابیر کانام مستقل فن ہوجانے کی وجہ سے تصوف رکھ دیا ہےیہ تدابیر اس مقصود کےمعین ہیں توان میں بدعت کی کونسی بات ہوئی مگرہرحال میں یہ سب کچھ موقوف ہے ارادہ پرمگر لوگ اردہ ہی نہیں کرتے محض تمنا کرتے ہیں اگر ارادہ کریں سخت سے سخت کام آسان ہوجائے اور بے ارادہ آسان سے آسان کام سخت ہوجاتاہے ہمارے خاندان کی ایک عورت کی حکایت کہ ان کو آنکھ کھلنے کے وقت شب کو پیاس لگی خاوند سےکہا کہ پیاس گیا لگ رہی ہے خاوند نے کہا کہ اٹھ کرپانی پی لومگر کم ہمتی سے نہیں اٹھی خاوند تھے ظریف کچھ دیر کے بعد کہا کہ مجھ کو بھی پیاس لگ گئی پانی پلادو عورتوں کو شوہرکی راحت ضاص خیال ہوتا ہے اس لئے اٹھ کرپانی لائی خاوند نےکہا کہ مجھ کو پیاس نہیں بہانہ سے منگایا ہے تم پیلو تب سمجھی اب دیکھ لیجئے اپنے لئے پیاس لگنے پر پانی پینے کا ارادہ نہ تھا اٹھنا مشکل ہوگیا اور خاوند کیلئے ارادہ کیا تو آسان ہوگیا حق تعالیٰ ارادہ کے متعلق فرماتے ہیں من ارادالاخرۃ وسعی ٰ لھا سعیھا فاولئک وھو مومن کان سعیھم مشکورا اور تمنا کے متعلق فرماتے ہیں ام للانسطن ماتمنی تمنا کے متعلق یہ فرمایا اورارادہ کے متعلق یہ فرمایا جب انسان ارادہ کرتا ہے سخت سے محنت اور مشکل سے مشکل کام سہل ہوجاتا ہے اوردرمیان کے تمام حائل اورموانع خود بخود دور ہوتے چلے جاتے ہیں بھر اس کام کے ہرجز ومیں اردہ کی ضرورت نہیں رہتی جیسے کوئی شخص بازار جانے کا ارادہ کرے تواول مرتبہ تو پہلاقد م اٹھا نے پر ارادہ کی ضرورت ہوگی پھرآخرتک ارادہ کی ضرورت نہیں رہتی وہی پہلا ارادہ ممتد ہوتا چلاجاتا ہے ورنہ اگر ہرقدم پرمستقل ارادہ کرے توصبح سے شام تک بھی بازار کا راستہ طے نہ کرسکے خلاصہ یہ ہے کہ کام شروع کردینا شایئے اوریہ دیکھنا چاہئے کہ کچھ حاصل بھی ہوا یا نہیں جیسے چکی پیسنے والی عورت اگرچکی کے ہرپھیرپر یہ دیکھے کہ کس قدر پس چکا تو بس آٹا پس چکا اس کی صورت تویہ ہی ہے کہ غلہ ڈال لے جائے اورچکی کوگھمائے جائے جب صبح کو دیکھی گی تو چکی کا گرنڈ یعنی مخزن آٹے سے بھراپائے گی غرض کام کرنا چاہئے اوراس پرآمادہ رہنا چایئے کہ چاہے کچھ نفع ہویا نہ ہواورعمل بھی خواہ بھی ہواوکبھی نہ ہو اس کی طرف نظرہی نہ کرے کام شروع کردے اور ایک اوربات کام کی اس وقت ذہن میں آئی وہ یہ کہ ماضی کی کوتاہی کو بھلادیناچاہئے یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ماضی پرمستقل کو قیاس کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ایسی ہی کوتاہی ہوگی اس سے بھی ہمت ٹوٹ جاتی ہے نیز اگرکام کرنے کے زمانہ میں کوئی لغزش ہوجائے یا کسی نامناسب بات یا فعل کا صدور ہوجائے اس کابھی مراقبہ کرنے پر بیٹھ جائے بس دل سے اللہم اغفرلی کہہ کر آگے چلے ورنہ پھریہ مراقبہ بھی اپناہی مطالعہ ہوگا اس طرف کا تومشاہدہ پھر بھی نہ ہوا ایک ضروری بات اوربھی ہے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خواہ قلیل ہی کی توفیق ہو اور ہمیشہ کے لئے بھی توفیق کی امید نہ ہو اس کو بھی غنیمت سمجھے مثلا یہ خیال کرےکہ آج کی دورکعت بھی کیوں چھوڑیں شاید ہی نجات کا سبب ہوجائیں سواس طریق سے کام کرکے دیکھو پھر دیکھو گے کیا سے کیا ہوتا ہے ۔
8/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد ظہر یوم پنجشنبہ
