ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ طواف کر رہا تھا جب میں فارغ ہوا تو ایک دوست کے پاس جا بیٹھا ایک صاحب ضعیف العمر آئے اور کہا کہ کئی مرتبہ تم سے ملنے کو جی چاہا مگر اتفاق سے ملاقات نہ ہو سکی اور ایک بات بھی کہنی ہے وہ یہ کہ تم عمامہ کیوں نہیں باندھتے میں نے کہا کہ کیا فرض ہے واجب ہے کہا کہ سنت ہے میں نے کہا کہ سنت موکدہ ہے یا مستحب کہا کہ اس سے کیا بحث میں نے کہا کہ بحث اس لئے ہے کہ ہر ایک کے احکام جدا ہیں مگر اس پر بھی وہ اپنی ہانکتے رہے کہ تم سنت کے خلاف کرتے ہو پھر تم بھی نفس کی شوخی سے اس تلاش میں لگا کہ ان میں بھی کوئی بات سنت کے خلاف ہے تو وہ پاجامہ پہن رہے تھے میں نے کہا کہ یہ پاجامہ جو آپ پہن رہے ہیں سنت کے خلاف ہے لنگی باندھنا چاہیئے کہنے لگے کہ بوڑھا آدمی ہوں اس لئے لونگی کھل جانے کا اندیشہ ہے میں نے کہا کہ میں جوان آدمی ہوں عمام کی گرمی سے دماغ میں گرمی ہوجانیکا اندیشہ ہے بس ان سے کچھ جواب بن نہ پڑا لگے سنے کہ خدا کرے تمہارے دماغ میں خوب گرمی ہو جاوے مجھ کو بھی غصہ آ گیا میں نے کہا تم بازار میں ننگے ہو جاؤ ان دوست نے ان دونوں کو روکا یہ حقیقت ہے آجکل کا مناظرہ کی عمامہ کو آجکل بعضے فرض واجب سمجھتے ہیں خصوص سرحدی لوگ اور ایک رومال جو سر کو باندھ لیتے ہیں اور عمامہ کا قائم مقام سمجھتے ہیں یہ ایسا ہے جیسے لنگوٹی باندھ کر اسکو پاجامہ کا قائم مقام سمجھنا یہ سر کی لنگوٹی عمامہ سے اسکا کیا تعلق ہے ـ
