( ملفوظ 419) امراض کی تشخیص صرف مصلح کر سکتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امراض کی تشخیص اور تجویز مصلح ہی کر سکتا ہے ـ طالب نہیں سمجھ سکتا ـ جیسے طبیب ہی مرض کو پہچان سکتا ہے اور علاج تجویز کر سکتا ہے ـ مریض نہیں کر سکتا مجھ کو ایک مرتبہ کم خوابی کی شکایت تھی ـ حکیم صاحب سے تدابیر پوچھا کرتا تھا مگر جب نفع نہ ہوا میں سمجھا کہ حکیم صاحب سے شرح اسباب لایا اور اس کو دیکھنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ اس میں جیسے اسباب لکھے تھے سب اپنے اندر پاتا تھا ـ اس لئے کچھ تجویز نہ کر سکا ـ تب خیال ہوا کہ کلیات کو جزئیات پر صاحب فن ہی منطبق کر سکتا ہے ـ غیر اہل فن کا یہ کام نہیں ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے جس کو فرماتے ہیں ـ
گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید لیک حیرنم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( اگر چہ مصور اس محبوب کی صورت کی تصویر تو بنادیگا ـ مگر اس کی ناز و انداز کی تصویر کس طرح کھنچے گا )
حافظ فرماتے ہیں
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند نہ ہر کہ آئینہ دار و سکندری داند
ہزار نکتہ بار یکتر زمو اینجا ست نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
( یہ بات نہیں ہے کہ جس نے بناؤ سنگار کر لیا وہ ناز وانداز محبوبانہ سے بھی واقف ہو نہ یہ کہ جس کے پاس آئینہ ہو ـ سکندر کی طرح آئینہ بنانا بھی جانتا ہو ـ دریشوں کی سی شکل بنا لینے سے حقیقی درویشی حاصل ہو جانا ضروری نہیں بلکہ اس راستہ میں بہت سی بال سے زیادہ باریک باتیں ہیں جن کے لئے نو باطن کی ضرورت ہے )