ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ عورتیں آج کل انگریزی پڑھتی ہیں یہ مردوں کے بھی زیادہ آزاد ہوجاتی ہیں وجہ یہ کہ کم عقلی ہوتی ہیں اس لئے زیادہ برباد ہوتی ہیں اور مرد بھی کافی پیمانہ پرانگریزی پڑھ کر خراب ہوجاتے ہیں اسی لئے میں توکہا کرتا ہوں فتویٰ دیتا ہوں کہ جہاں داماد کا حسب نسب دیکھا جاوے وہاں ایمان بھی دیکھا جاوے اب تو وہ زمانہ ہے کہ ایمان ہی لالے پڑگئے یہاں پرقصبہ میں ایک لڑکی ہے اس کا نکاح ایک شخص سے دوسرے قریب کے قصبہ میں ہوا ہے اس شخص کا وعقیدہ سنیے کہتا ہے کہ حضور کو پیغمبر کہنا یہ ایک مذہبی خیال ہے البتہ یہ میں بھی مانتا ہوں کہ وہ بہت بڑے ریفارمرتھے اور جو باتیں اس وقت کے مناسب تھیں حضور نے تعلیم فرمائیں مگر حضور لوگ نادان اب تک بھی ان ہی باتوں کے لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں حضور کی توہیں کرتا ہوں نہیں نہیں میں آپ کی بڑی قدر کرتا ہوں مگر نبوت کا خیال یہ محض ایک مذہبی خیال ہے یہ تو خیالات ، اور لڑکی نکاح میں سمجھی جاتی ہے دھڑا دھڑ ہورہی ہے حالانکہ نکاح رخصت ہوچکا یہ ہے اس انگریزی پڑھنے والوں کا رنگ ۔
