(ملفوظ 176 )آنکھ بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نماز آنکھیں بند کرکے پڑھنا جائز ہے یا نہیں فرمایا کہ اگر تحصیل خشوع کے لئے ہوجائز لکھا ہے مگرسنت یہی ہے کہ آنکھ کھول کرپڑھے گو اجتماع خواطر میں کمی ہوجو کہ غیراختیاری ہے غرض آنکھ بند کرکے نماز پڑھنا خلاف اولی ہوگا عرض کیا کہ ذکر میں تو آنکھ بند کرناخلاف اولٰی نہ ہوگا فرمایا نہیں نماز میں آنکھ بند کرنے کے متعلق ایک عجیب حکایت یاد آئی ہمارے حضرت کے مخصوصین میں سے ایک صاحب کشف نے تکمیل خشوع کے لئے آنکھ بند کرکے نماز پڑھی پھر بعد فراغ نظر کشفی سے اس طرف توجہ کی تونماز مکثوف ہوئی نہایت حسین صورت میں دیکھا کہ اندھی ہے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے اجمالا عرض کیا کہ میں نے نہایت خشوع کے ساتھ پڑھی تھی مگر یہ صورت نظرآئی حضرت نے فورا فرمایا کہ آنکھ بند کرکے نماز پڑھی ہوگی عرض کیا جی فرمایا کہ یہ فعل سنت کے خلاف کیا یہ اس کے سبب سے ہوا انہوں نے دفع خطرات کی مصلحت بیان کی اس پرفرمایا کہ اگر آنکھ کھول کے نماز پڑھتے اور اس میں خطرات کی مصلحت بیان کی اس پرفرمایا کہ اگر آنکھ کھول کے نماز پڑھتے اور اس میں خطرات آتے وہ نماز افضل واکمل ہوتی اس آنکھ بند کرکے پڑھنے سے جس میں نہ خطرات آئے اور نہ انتشار ہوا شیخ ایسا مبصرہ ہوا چاہئے اس مبصرہ ہونے پر ایک دوسرا واقعہ بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے شکایت کی کہ ذکرپورا نہیں ہوتا شروع کرنے ہی قلب پربے حد ثقل
ہوتا ہے زبان بند ہوجاتی ہے فرمایا کہ یہ ثقل وہ ثقل ہے جو حضورﷺ کووحی کے وقت ہوتا تھا اپ پرعلوم نبوت فائض ہوتے ہیں کیا عجیب اورغامض تحقیق ہے ۔