(ملفوظ 134)اپنا مقصود طاہرکئے بغیرکیسے اصلاح کی امید ہوسکتی ہے :

ایک صاحب کی غلطی پرمواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ جب آدمی اپنے مقصود ہی کو ظاہر نہیں کرسکتا توآ گے اس سے کیا امید ہوسکتی ہے مجھ کوتو اس کا بھی قلق ہوتا ہے کہ سفر بھی کیا روپیہ بھی صرف ہوا وطن چھوڑا اور پھر محرومی رہی میں یہ کیسے مان لوں کہ گھر سے اتنی دور آگئے اورمقصود کوئی ذہن میں نہ ہوکیا ہونہی دیوانوں کی طرح دھکے کھاتے تھے پھرتے ہیں یا کچھ دماغ میں خلل ہے ایسے ایسے کوڑمغز اور بدفہم میرے حصہ میں آتے ہیں خدا معلوم کیا کوئی خاص مدرسہ ہے بدفہموں کا جہاں یہ لوگ تعلیم پاکر آتے ہیں اب اگر کچھ کہتا ہوں توبدنام ہوتا ہوں اوراگرنہیں کہتا توبت کی طرح بیٹھے ہیں نہ ہاں کچھ نہیں اسکے بعد فرمایا ارے بندہ خدا کچھ تو دوسرے آدمی کو جواب دینا چاہئے اگرکوئی جواب نہیں تویہ ہی کہ دو کہ کوئی جواب نہیں یہ بھی ایک جواب ہے اس پران صاحب نے عرض کیا کہ میں ذرا سوچ کر پھر کسی وقت جواب دوں گا فرمایا ماشاءاللہ ایک بات تو فہم کی کہی اگریہ پہلے ہی سے کہ دیتے تومجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی اچھا جاؤ اورتنہائی میں بیٹھ کر جواب سوچ لواور جب سمجھ میں آجائے تومجھ کوخود تویادرہے گا نہیں تم خود اطلاع کردینا اوراس میں بھی یہ آزادی ہے اگر تمہارا جی چاہے تواطلاع کرنا اگرنہ چاہے مت کرنا مجھ کو انتظار نہ ہوگا اگراطلاع میں اپنا نفع سمجھو اور مجھے اصلاح کرانا مقصود ہو اطلاع کرنا ورنہ جوارادہ ہواس پرعمل کرلینا میری طرف سے بالکل آزادی ہے ۔