( ملفوظ 482)اپنے عیب نظر نہ آنا بہت بڑا عیب ہے ـ

ایک خط کے جواب میں فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا تھا اصلاح چاہتے تھے میں نے لکھا کہ تم ان عیوب کو بیان کرو میں اصلاح کا طریقہ بتا دونگا لکھا کہ میری سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ میرے اندر کیا عیب ہے میں لکھا کہ تبلیغ دین کا مطالعہ کرو آج خط آیا ہے لکھا ہے کہ تبلیغ دین کو پڑھا چند عیوب اپنے اندر سمجھ میں آئے فرمایا کہ جب طلب ہوتی ہے راہ نکل ہی آتی ہے اور انہوں نے تو یہ ہی لکھا تھا کہ سمجھ میں نہیں آتا ایک شخص نے تو یہ لکھا تھا کہ میرے اندر کوئی عیب ہی نہیں ارے بندہ خدا یہ ہی کیا تھوڑا عیب ہے کہ اپنے اندر کوئی عیب ہی نہیں بتلاتا اگر حقیقت معلوم ہو جائے تو یہ کہنے لگے کہ میں سرتاپا عیوب ہی میں غرقاب ہوں حقیقت سے بے خبری ہے جس وجہ سے اپنے کو عیوب سے پاک ہونیکا خیال ہے میں نے جواب میں لکھا کہ جب کوئی عیب ہی نہیں تو بالکل بے فکر رہو اصلاح ہی کی ضرورت نہیں ـ