(ملفوظ 50) عرفات میں خطبہ سنت ہے :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عرفات میں اب خطبہ نہیں ہوتا فرمایا یہ کیوں یہ تو سنت ہے اور نجدیوں کو اتباع سنت کا دعوی ہے پھر سنت کو کیو ں ترک کیا عرض کیا عرفات میں نجدی روتے تو بہت ہیں فرمایا کہ رونا تو خطبہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتاخطبہ کا ٹھیک طریقہ تو جب تھا کہ روتے بھی اور خطبہ بھی ہوتا اور بے خطبہ رونا تو ایساہے جیسے ایک میاں جی بے محل روئے تھے ایک میاں جی ایک متوسط الحال شخص کے یہاں بچے پڑھانے پر ملازم تھے وہ شخص کہیں باہر جاکر پانچ سو روپے ماہوار کے ملازم ہوگئے انہوں نے گھراطلاع خط بھیجا میاں جی کے سوا اور کوئی خط پڑھنے والا نہ تھا گھر والوں نے میاں جی کوخط پڑھنے کو دیا خط پڑھ کر میاں جی نےرونا شروع کردیا گھروالوں کو پریشانی ہوئی اور وجہ پوچھی کہا کہ وجہ تو بعد میں بتلاوں گا پہلے تم بھی رؤو ۔ وہ بھی رونے لگے غل مچا ۔
محلہ والے سن کر آگئے رونے کی وجہ پوچھی میاں نے کہا کہ تم بھی رؤو ۔ محلہ والے بھی رونے لگے پھر لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا میاں جی نے کہا خط میں لکھا ہے کہ میاں پانچ سو روپیہ کے ملازم ہوگئے لوگوں نے کہا اس میں رونے کی کیا بات ہے یہ تو خوش ہونے کی بات ہے کہنے لگے نہیں رونے ہی کی بات ہے چنانچہ سنو ! میں تویوں رویا کہ اب وہ بچوں کو انگریزی پڑھائیں گے بجائے ان کے اب وہ کسی میم صاحبہ کو لائیں گے میرا روزگار گیا اور گھروالوں کے رونے کی یہ بات ہے کہ بجائے ان کے اب وہ کسی میم صاحبہ کو لائیں گے ان کے ورٹی کپڑے میں کھنڈت پڑے گی اور اہل محلہ کے رونے کی یہ بات ہےکہ میاں کو موٹرکیلئے اور گھوڑوں کے لئے مکان اور اصطبل کی ضرورت ہوگی تو اہل محلہ ہی سے مکانا ت خالی کرایہ جائیں گے اس لئے سب کو رونا چاہئے میاں جی تھے بڑے دوراندیش کیا جوڑ لگایا ہے تو بعض رونا بھی بے جوڑ ہوتا ہے ۔
بندہ خدا خطبہ کیوں ترک کیا سنت کو تو بدعت نہیں کہہ سکتے خدا معلوم کیا ذہن میں آیا ہوگا جس کی بناء پریہ کیا گیا ویسے تو عقائد میں نہایت ہی پختہ ہیں ہاں ! ایک کمی ہے جس کو میں اکثر کہاکرتاہوں کہ نجدی ہیں تھوڑے سے وجدی بھی ہوتے تب بات ٹھیک ہوتی خشک زیادہ ہیں کھراپن ہے ۔