ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تحقیقات اور فلسفیات کو مقصود بنارکھا ہے اور اصل مقصود کی طرف سے بے توجہی ہے سو ان فلسفیات میں کیا رکھا ہے ایک نحوی کشتی میں سوار ہوئے نحودانی کا جوش اٹھا ملاح سے دریافت کیا کہ میاں تم نے نحو پڑھی اس نے کہا نہیں آپ بولے کہ افسوس تم نے اپنی آدھی عمر یونہی برباد کی جب کشتی چل تو بیچ دریا پہنچ کر اتفاق سے گرداب میں آگئی اس ملاح نے دریافت کیا کہ میاں تیرنا بھی سیکھا ہے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ تم نے اپنی ساری عمریونہی کھوئی کشتی گرداب میں ہے اس کے ساتھ تم بھی ڈوبو گے اور میں تیرنا جانتا ہوں تیر کر نکل جاوں گا تو صاحب یہاں پر نحو سے کام نہ چلے گا محو کی ضرورت ہے جیسے اگر کوئی محاسب اعلی درجہ کا ہوتو دریا میں محاسبی کیا کام دے سکتی ہے وہاں تو غواصی (غوطہ لگانا جاننے ) کی ضرورت ہے اور محو سے مراد یہ ہے کہ اپنے کو اہل اللہ کے سپرد کرو اپنی رائے اور تحقیقات کو اٹھا کر طاق میں رکھو اس راہ میں اس سے کامیابی مشکل ہے یہ فن ہی دوسرا ہے اس میں تو دوسرے ہی کے اتباع کی ضرورت ہے اس کی تقلید کرنا پڑے گی یعنی شیخ کامل کی اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
قال راہگزار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو
واقع یہ طریق نازک ہے اس میں قدم بدون راہبر کے رکھنا خطرہ سے خالی نہیں ۔
