( ملفوظ 531)اسباب کے ساتھ زہد ہونا کمال ہے بزرگ بننا ہو تو کہیں اور جاؤ انسان بننا ہو تو یہاں آؤ

ایک سلسلہ گفتگو میں کسی اصل پر متفرع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وجہ ہے کہ صوفیہ کرام علی الاطلاق ترک اسباب کی کبھی اجازت نہیں فرماتے محققین کا یہ قول ہے کہ ایسا زہد خلاف ادب ہے جس میں مطلقا ترک اسباب ہو کمال یہی ہے کہ اسباب کے ساتھ زہد کو جمع کیا جائے چناچہ وہ کہتے ہیں کہ گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھنا توکل نہیں اسی طرح کسی جنگل بیابان میں جا کر بیٹھنا توکل نہیں گھر ہی میں بیٹھو مگر دروازہ کھول کر بیٹھو لیکن دروازہ کی طرف دیکھو مت دروازہ سے آنے والے کی طرف مت دیکھو اسی کو کسی غیر عارف نے تنگ آ کر اس طرح کہہ دیا ہے ـ
در میان قعر دریا تختہ بندم کردہ ، باز میگوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش
لیکن یہ مشکل اسی کے واسطے ہے جو دریا میں تیرنا جانتا ہو اور اس فن سے ماہر نہ ہو باقی جو جانتے ہیں اور فن سے ماہر اور واقف ہیں وہ کھڑے ہو کر تیرتے ہیں اور دامن کو صاف بجا لے جاتے ہیں اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ محقق ہمیشہ جامع بین الاضداد ہوتا ہے اسباب سے صرف استعمال کا تعلق رکھتے ہیں اور توجہ کا تعلق نہیں رکھتے ـ کمال توکل یہی ہے کہ اسباب سے صرف استعمال کا تعلق رکھتے ہیں اور توجہ کا تعلق نہیں رکھتے ـ کمال توکل یہی ہے کہ اسباب ظاہری ہوں اور پھر ان کی طرف توجہ نہ ہو ان کی طرف نظر نہ ہو اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے کہ مریض دوا بھی پئے اور پھر نظر دوا پر نہ ہو بلکہ خدا پر ہو کہ اگر وہ چاہیں گے تو شفاء فرمادیں گے مئوثر ان ہی کے حکم کو سمجھے یہی ہے کمال توکل اور اگر بالکل اسباب نہ ہوں اور پھر توکل ہو تو یہ کوئی کمال کا درجہ نہیں جیسے اگر گھر روٹی نہ پکی ہو اور نہ کھائے تو کوئی نہیں گھر روٹی پکی ہو اور چنگیز بھری ہوئی سامنے رکھی ہو اور پھر کم کھائے یہ کمال ہے یہ ہے قلت الطعام کا مصداق مگر یہ سب موقوف ہے صحبت کامل پر کسی کی جوتیاں سیدھی کرو ڈونڈے کھاؤ اس کے سامنے ناک رگڑو اس سے حقیقت تک رسائی ہوتی ہے بدون اس کے رسائی مشکل ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ شاہ صاحب بننا آسان ملک التجار بننا آسان بزرگ بننا آسان قطب بننا آسان مگر انسان بننا مشکل کسی نے خوب لکھا ہے ـ
زاہد شدی و شیخ شدی دانشمند ، ایں جملہ شدی ولے مسلمان نہ شدی ،
اور میں یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ بزرگ بننا ہو ولی بننا ہو قطب اور غوث بننا ہو کہیں اور جاؤ اگر انسان بننا ہو میرے پاس آؤ میں تو انسان بناتا ہوں مگر یہ بنانا ایسا ہوگا جیسا کہ کوئی شخص کہے کہ مربا بنانا جانتا ہوں تو ظاہر ہے کہ مربا جس طرح بنتا ہے اسی طرح بنے گا چناچہ اول تو اس پھل کو چاقو سے داغ دھبے سے صاف کیا جائے گا چھلکا چھیلا جائے گا پھر اس کو ایک دیکچی میں رکھ کر پانی ڈال کر چولہے پر چڑھا کر نیچے آگ جلائی جائے گی تاکہ اچھی طرح ابل جائے ما بعد اس کو کسی چاقو وغیرہ سے کوچا جائے گا تاکہ میٹھے کا قوام اچھی طرح اندر تک اثر کر سکے پھر چاشنی کے اندر ڈالا جائے گا جس کو قوام کہتے ہیں اتنے قصوں کے بعد مربا بنے گا اور کھانے کے قابل ہوگا اور وہ آثار پیدا ہوں گے جن کو تم چاہتے ہو یا جس کی بناء پر طبیب نے بتلایا ہے ایسا بنانے والے کو مربی کہتے ہیں تو ایسے ہی مربی کو تلاش کرو جو کاٹ کر چھانٹ کر چکر جوش دے کر مربا بنادے مگر ایسے ہی مربی سے آج کل لوگ کوسوں دور بھاگتے ہیں اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے قزوین میں رواج تھا بدن گدوانے کا ایک شخص بدن گودنے والے کے پاس گیا کہ میری کمر پر شیر کی تصویر بنا دو اس نے سوئی لے کر ایک طرف کوچہ دیا اس نے ہائے مر گیا ارے کیا بناتا ہے کہ دم اس نے کہا کہ اس دم نے تو میرا دم ہی نکالا ہوتا اس کو چھوڑ دے کیا بے دم کے شیر نہیں ہوتے اس نے اس طرف کے چھوڑ کر دوسری طرف سوئی کا کوچہ دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناتا ہے کہا کہ کان کہا کیا بوچے شیر نہیں ہوتے پھر یہ کانوں سے سنے گا تھوڑا ہی اس نے اس طرف کو چھوڑ کر تیسری طرف سوئی کا کوچہ دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناتا ہے کہا کہ پیٹ کہا کہ کیا یہ کچھ کھائے گا اس نے چوتھی طرف کوچا دیا دریافت کیا کہ اب کیا بناوے گا کہا کہ سر کہا کہ بے سر کا بھی تو بن سکتا ہے اس نے سوئی کو ہاتھ سے پھینک کر کہا جس کو مولانا رومی فرماتے ہیں ـ عے
شیر بے گوش و سر و شکم دید این چنیں شیرے خدا ہم نا فرید
گر بہر زخمے تو پر کینہ شوی ، پس کجا صقیل جو آئینہ شوی ،
چوں نداری طاقت سوزن زدن ، پس تو از شیر ژیاں ہم دم مزن
تو صاحبوں کام تو کام ہی کی طرح سے ہوتا ہے اصلاح تو اصلاح ہی کے طریق سے ہو سکتی ہے اب بننا تو سب کچھ چاہتے ہیں مگر یوں بھی چاہتے ہیں کہ نہ تو کچھ کرنا پڑے اور نہ کوئی کچھ کہے تو گھر سے چلے ہی کس بوتے پر تھے اور اگر دھوکے سے آگئے تو اب لوٹ جاؤ بلانے کون جاتا ہے ـ