(ملفوظ 282) اسباب پرترتب فضل خداوندی ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ مسببس کا اسباب پرترتب محض ان کا فضل ہے انعام ہے ورنہ کوئی چیز بھی موثر حقیقی نہیں محض حکم ہے جو کچھ ہے اسی کو فرماتے ہیں
نبارد ہواتانہ گوئی ببار ٭ زمین نادر تانہ گوئی ببار
( جب تک آپ کا حکم نہ ہو بارش نہیں ہوسکتی ۔ اور جب تک آپ کا حکم نہ ہوزمین کوئی چیزا گا نہیں سکتی 12)۔
پانی بالذات پیاس نہیں بجھاتا وہی بجھاتے ہیں ۔ ورنہ وہی پانی مستقی کی پیاس کو کیوں نہیں بجھاتا ۔ اسی طرح آگ خود فعل نہیں کرتی یہ بھی حق تعالٰی ہی کا حکم ہے کہ وہ کھانا پکادیتی ہے آگ کا تلبس محض ظاہری ہے اس کی بلکل ایسی مثال ہے کہ ملازم ریلوے نے ریل روکنے کیلئے سرخ جھنڈا دکھلائی اوروہ کھڑی ہوگئی ظاہر ہے کہ جھنڈی میں کوئی خاص اثر نہیں محض آسانی کے واسطے ایک اصطلاح مقرر کرلی ہے کہ کہاں شوروغل مچائیں گے کہ روکو روکو تو یہ جھنڈی محض ایک علامت ہے ورنہ اصل روکنے والا توڈریورہے جو تمہیں نظر نہیں آتا
چرغ کوکب یہ سلیقہ ہے ستمگاری میں ٭ کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں
عشق من پیداؤ معشوق نہاں ٭ یاربیروں فتنہ اور درجہاں
( میرا عشق تو ظاہر ہورہا ہے اور میرا معشوق پوشیدہ ہے محبوب تو د عقل وادراک سے بھی باہر ہے اور اس کا عشق سارے جہاں میں ہے ۔ 12)
اور فرماتے ہیں
ماہمہ شیراں ولے شیر علم ٭ حملہ شان ازباد باشد ومبدم
حملہ شان پیداؤ نا پیداست باد ٭ آنکہ باپیدا است ہرگز کم مباد
( ہم سب شیر ہیں ۔ مگر جھنڈے کے شیر ہیں ۔ (یعنی جیسے جھنڈے پرشیر کی تصویر بنادی جائے اور ہوا کی وجہ سے جھنڈا ہلے تو معلوم ہوا کہ ) شیرباربار حملہ کررہا ہے ( لیکن حقیقت میں اس کو حرکت دینے والی ہوا ہے مگر) اس جھنڈے کے شیروں کا حملہ تو ظاہر ہورہا ہے اوراصل حرکت دینے والی ) ہوا نظر نہیں آتی ۔ ( یہی حال تمام کائنات کے افعال کا ہے کہ ظاہر میں اون کا کاموں کے کرنے والے ہم نظر آتے ہیں مگر وہ سب کام بغیر اذن خداوندی کے ہوہی نہیں سکتے ۔ آگے بطور دعا کے فرماتے ہیں کہ ) جونظر نہیں آتا اس سے ( تعلق ) کم نہ ہو ۔ 12)
اسی طرح تمام عالم میں ان کا تصرف ہے اور وہ خود نظرنہیں آتے گو یہ سب تصرفات انہیں کے ہیں رازق نظر نہیں آتا رزق نظر آتا ہے اس سے یہ دہری سمجھے کہ رازق کوئی ہے ہی نہیں ان فلاسفہ اوردہریوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چیونٹی نے کہا یہ خود بخود نہیں بنے بلکہ یہ قلم نے بنائے ہیں تیسرے نے کہا کہ قلم کیا بناتا وہ قلم کس کے ہاتھ میں ہے اس ہاتھ بنائے ہیں چوتھی نے کہا کہ ہاتھ کیا بناتا جس نے ہاتھ کو بنایا یہ سب اس کا کمال ہے غرض ایک حقیقت پرپہنچ گئی باقی سب وسائط میں الجھے ہوئے ہیں اورحقیقت سے بے خبر ہیں ۔