ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اصول صحیحہ پر عمل کرنا طرفین کی راحت کا سبب ہوتا ہے ـ اس لئے میں نے نئے آنے والوں کے واسطے یہ قید لگا دی ہے کہ زمانہ قیام میں مخاطب مکاتبت کچھ نہ ہو ـ خاموش مجلس میں بیٹھے رہا کرو اور بیعت میں بھی عجلت نہ کرو اسکے بعد جو رائے قائم ہوگی وہ بصیرت سے ہوگا ـ اس میں انسان پچتاتا نہیں کیونکہ دیکھنے بھالنے اور سوچنے سمجھنے کا موقع اچھی طرح مل جاتا ہے ـ دوسرے استماع میں جو لطف ہوتا ہے وہ تکلم میں نہیں ہوتا ـ جیسے حافظ اچھا قرآن پڑھنے والا ہو تو سننے والے کو زیادہ لطف ہوتا ہے ـ پڑھنے والے کو وہ لطف نہیں ہوتا ـ
