ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کس قدر بد فہمی کی بات ہے کہ اتباع کوئی چیز ہی نہیں رہی یہ چاہتے ہیں کہ حاکم ہمارا اتباع کریں اب یہ ہی سوراج سوراج ہانک رہے ہیں جب یہ حاکم بنیں گے تو ان کے ساتھ بھی یہ ہی برتاؤ ہوگا جو یہ کہہ رہے ہیں تب حقیقت معلوم ہوگی جتنی باتیں کررہے ہیں نہایت ناعاقبت اندیشی کی ہیں بہت بری ذہنیت پیدا ہو گئی ہے یہی حالت حکام باطنی یعنی مشائخ کے ساتھ ہو گئی ہے کہ ان کو اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں سو یہ علامت سے ضعیف اعتقاد کی اسی سلسلہ میں ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ زادہ کی قوم اگر کسی سے معتقد ہو جائیں تو بغالب ظن واقعی بزرگ ہے اس لئے کہ وہ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مولوی ہو جاوے شیخ ہوجاوے ان کا معتقد ہونا بڑا مشکل ہے یہ واقعی بزرگوں کے بھی کم ہی معتقد ہوتے ہیں مزاحا فرمایا کہ یہ خود شیخ زادہ ہیں بلکہ شیخ سے بھی زیادہ ہیں اس لئے کہ بڑی مشکل سے کسی کے معتقد ہوتے ہیں اور اگر ہو جاتے ہیں تو پھر پورے طور سے ہوتے ہیں کیونکہ سمجھ کر ہوتے ہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کتنے بڑے درجے کے ہیں مگر گنگوہ کےلوگ زیادہ معتقد نہ تھے نہ شیخ زادے نہ پیر زادے اور یہ پیر زادوں کی قوم تو ہر جگہ عجیب ہی ہیں چناچہ آجکل کے پیرجیوں نے عجیب عجیب باتیں تراش رکھی ہیں کبھی مرغ حاصل کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ تعویز مرغ کے خون میں لکھا جاتا ہے میں کہا کرتا ہوں کہ ان کو مرغ نہ دے بلکہ ان کے سامنے مرغ ذبح کر کے اور ایک ٹھیکری میں خون دے کر کہہ جاوے کہ یہ ہے مرغ کا خون اس سے تعویز لکھدیجئے مگر شاید وہ یہ کہنے لگیں کہ مرغ کا گوشت کھا کر تعویز لکھا جائے گا تب اثر ہو گا اس کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں یہ لوگ اگر یہ ترکیبیں نہ کریں تو بیچارے اور کیا کریں ان کو اور کچھ آتا تو نہیں اس لئے قابل رحم بھی ہیں ـ
