( ملفوظ 128 )دوسروں کے برا کہنے کی کیا پرواہ ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جاہ کا مرض بھی عام ہو گیا ہے ـ رات دن لوگ اسی کی فکر میں ہیں کہ کوئی برا نہ کہے ان باتوں میں کیا رکھا ہے کام میں لگو خدا سے صحیح تعلق پیدا کرنے کی فکر کرو میں تو کہا کرتا ہوں کہ ایک خدا کو اختیار کر لوگوں نے پچاس خدا اختیار کر رکھے ہیں ـ کہیں نفس برادری کہیں قوم ، کہیں جاہ ، کہیں عزت ، کہیں روپیہ ، کہیں کچھ کہیں کچھ سو سب کو راضی نہیں کر سکتے ـ ایک کو ہر طرح پر راضی رکھ سکتے ہو ـ بس ایک کو لے لو اسی کو فر ماتے ہیں ـ
مصلحت دید من آنست کہ یاراں ہمہ کار بگزار رندو خم طرہ یا رے گیرند ( میرے نزدیک تو مصلحت یہ ہے کہ لوگ سارے کام چھوڑ کر محبوب کی زلف کے اسیر ہو جاویں )
اور مسلمان کی حق تعالی کے ساتھ یہ شان ہونی چاہئے ـ
ہمہ شہر پرز خوہاں منم و خیال ماھے چہ کنم کہ چشم یک بین نکند بہ کس نگا ہے
( سارا شہر حسینوں سے بھرا ہوا ہے مگر میں تو اپنے چاند کے خیال میں ہوں کیا کروں میری آنکھ جو اس یکتائے زمانہ کو دیکھ چکی ہے کسی کی طرف التفات ہی نہیں کرتی 12 ) اور یہ مذہب ہونا چاہیے ـ
دلا رامے کہ داری دل درو بند دگر چشم از ہمہ عالم
( تمہارا جو محبوب ہے اسی سے دل لگائے رہو اور باقی سارے عالم کی طرف سے آنکھ بند کر لو 12 )
غرض نہ کسی کی مدح سے اس کا کچھ بڑھتا ہے نہ کسی کی برائی سے کچھ گھٹتا ہے ـ پھر ان فضولیات میں پڑ کر کیوں آدمی اپنا وقت بیکار برباد کرے ـ
قریب ہی کا واقعہ ہے کہ تحریک خلافت کے زمانے میں لوگوں نے مجھ پر کس قدر سب و شتم کیا ـ میرا کیا بگڑ گیا ـ بلکہ ہر طرح کا نفع ہی ہوا اور اسی لئے میں نے لوگوں کے معافی چاہئے سے قبل ہی سب کو معاف کر دیا تھا ـ اور اللہ تعالی سے یہ عرض کر دیا کہ میری وجہ سے مواخزہ کسی پر نہ ہو ـ اس لئے کہ اگر ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے تو میرا کیا نفع اور معاف کرنے میں تو امید نفع کی بھی ہے کہ میں اپنا حق لوگوں کو معاف کردوں ـ شاید اللہ مجھے معاف فرمادیں ـ اس زمانہ میں عجب ایک ہڑ بونگ مچا رکھا تھا ـ قسم قسم کی دھمکیاں دیجاتی تھیں ـ سمجھتے تھے کہ دھمکیوں سے اپنا مسلک بدل دے گا ـ جیسے خود ہیں ـ ویسا ہی دوسروں کو سمجھتے ہیں ـ اپنے اوپر دوسروں کو قیاس کرتے ہیں ـ اسی زمانہ میں ایک مولوی صاحب دہلی سے یہاں پر آئے تھے ـ وہ ان مسائل کے متعلق خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے تھے ـ میں نے کہا کہ میں خلوت میں گفتگو نہ کروں گا کیونکہ اس میں میرے لئے خطرہ ہے کہ مشتبہ ہو جاؤں گا اور میں اس خطرہ کے لئے تیار نہیں اور جلوت میں آپکے لئے خطرہ ہے ـ مگر آپ اس خطرہ کے لئے تیار ہو چکے ہیں ـ پر کوئی گفتگو نہیں کی ـ ایک مولوی صاحب پانی پت میں فرمانے لگے تم کو واقعات معلوم نہیں ـ ورنہ ہماری مواقفت کرتے ـ میں نے کہا آپ کو تو معلوم ہیں ـ آپ مجھ کو خط و کتابت سے مطلع کر دیں کہنے لگے خط و کتابت میں خطرہ ہے میں نے کہا کہ میری فکر نہ کیجئے جب کوئی گڑبڑ ہوگی میں کہہ دوں گا کہ کسی دشمن نے مجھ کو لکھ دیا میں کیا جانوں غرض آپ بے فکر ہو کر خط و کتابت کیجئے ـ پس رہ گئے ـ

( ملفوظ 127 )عمل کے بعد خواص معلوم ہوتے ہیں

ایک مولوی صاحب کو سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں بعض اشیاء کی خاصیت عمل کرنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے ـ چناچہ شریعت کے اکثر احکام ایسے ہی ہیں کہ ان کے انوار عمل کرنے کے بعد معلوم ہوتے ہیں ـ جیسے طبیب کے نسخہ لکھنے کیوقت اس کی حکمت اور اسرار نہیں معلوم ہوتے بلکہ استعمال کے بعد اس کا نفع معلوم ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 126 )دینی شبہات کا علاج ہیبت اور محبت اور ان دونوں کے حصول کا طریقہ

ایک صاحب نے ایک شبہ پیش کرنا چاہا حضرت والا نے فرمایا کہ شبھات کا ازالہ محض قیل و قال سے نہیں ہوا کرتا کام کرنے سے اکثر شبھات کا خود بخود سد باب ہو جاتا ہے پہلے کام میں کوشش کرو اور اصلاح کا ارادہ کرو پھر کوئی شبہ ہو پیش کرو کام کرنے سے قبل سوچ سوچ کر باتیں کرنا محض وقت کو بیکار کھونا ہے مجھکو حضرت استادی مولانا محمد یعقوب صاحب کا جواب بے حد پسند آیا دوران درس میں ایک طالب علم نے ایک حدیث پر شبہ کیا تھا اس کا جواب مولانا نے دیا تھا وہ حدیث یہ ہے کہ جو اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ : لا یحدث فیھما نفسہ ۔ یعنی ان رکعات میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے یعنی حدیث النفس کے طریق پر جیسے ہم لوگ ادھر ادھر کی باتیں سوچا کرتے ہیں اس سے وہ نماز بھی بالکل خالی بے سوچے اگر وساوس آویں کوئی حرج نہیں خود نہ سوچے حاصل یہ ہے کہ خطرات احداث اور بقاء دونوں اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ایک طالب علم نے عرض کیا کہ حضرت کیا ایسی نماز ممکن ہے جس میں خیالات یا وساوس نہ آویں اول تو طالب علم نے سوال ہی غلط کیا حدیث تو یہ ہے لا یحدث فیھما نفسہ نہ کہ لا تتحدث فیھما نفسہ مگر مولانا نے اس سے تعرض نہیں فرمایا بلکہ عجیب ہی جواب دیا وہ دیا یہ کہ میاں کبھی ایسی نماز پڑھنے کا تم نے ارادہ بھی کیا تھا جس میں نا کامیابی رہی ہو کبھی پڑھ کر بھی دیکھی تھی اگر پڑھ کر دیکھتے اور ناکامی رہتی تب پوچھتے بھی اچھے معلوم ہوتے کبھی ارادہ کیا نہیں پہلے ہی حدیث پر شبہ کر بیٹھے شرم نہیں آت عمل کر کے دیکھا ہوتا اس پر بھی ناکامی رہتی تب ہی اعتراض کیا ہوتا ہے ـ یہ ہے جواب اور میں ایک طریق پر کہتا ہوں کہ حکومت کے قانون میں کبھی وسوسہ نہیں ہوتا اس لئے کہ وہاں ہیبت ہے اسی طرح محبوب کی باتوں میں کبھی وسوسہ نہیں ہوتا اس لئے کہ وہاں محبت ہے بس وسوسہ کا تختہ مشق صرف دین ہی کو بنایا جاتا ہے کیونکہ وہان نہ ہیبت ہے نہ محبت ہے بس یہ دو چیزیں پیدا کرلو یہی دو چیزیں ہیں وساوس کے روکنے والی غرض جو عملی کام ہیں ان پر اگر شبہ ہو وہ عمل کرنے سے زائل ہو سکتا ہے نرمی علمی تحقیقات سے کام نہیں چل سکتا بس اسکا ایک ہی علاج ہے کہ حق سبحانہ تعالی سے ہیبت یا محبت پیدا کرو اور ہیبت و محبت کے پیدا کرنیکا سہل طریقہ یہ ہے کہ اہل خشیت و اہل محبت کی صحبت اختیار کرو پھر نرمی صحبت سے بھی کچھ نہیں ہوتا بلکہ اپنے کو اس کو اس کے سپرد کر دو ـ اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فراماتے ہیں ـ
قال را بگزار مرد حال شو پیش مردے کا ملے پامال شو
( قیل و قال کو چھوڑ کر اپنے اندر حال پیدا کرو اور کسی مرد کامل کے آگے اپنے کو فنا کر دو )

( ملفوظ 125 )تحرکات میں عوام کو بہکایا جاتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عوام بیچاروں کو محض اغراض کے لئے پھنسایا جاتا ہے بہکایا جاتا ہے فتن کی تحریکات لوگوں کے دین کے برباد کرنے کا ذریعہ بن گئیں اللہ ہی محافظ ہیں میرا تو مسلک یہ ہے کہ جو کام آسانی سے ہو سکے کر لو ورنہ چھوڑ دو انسان غیر اختیاری کام کا مکلف بھی تو نہیں پھر کیوں خلجان میں پڑے ـ

( ملفوظ 124 )ان مع العسر یسرا ۔

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا جس تنگیکا انجام فرخی ہو وہ تنگی محمود ہے ـ

( ملفوظ 123 ) خالی مشورہ دے کر کاموں سے گریز

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ فلاں مضمون کا ایک رسالہ لکھ کر چھپوا کر اشتہار دینا چاہیئے اور اس مشورہ میں کوئی کام اپنے ذمہ نہیں رکھا ان بد دماغوں کو شرم نہیں آتی حامی دین بنتے ہیں رسالہ بھی ہم ہی لکھیں ، چھپوائیں بھی ہم ہی اشتہار بھی ہم ہی دیں ان سے کوئی پوچھے آپ بھی کچھ کریں گے ـ

( ملفوظ 122 )جاہل صوفیہ اور دنیا دار پیروں کی حالت

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بیحد حمایت کا الحمد اللہ میرے اندر مادہ ہی نہیں شریعت میری فطرت ہے اسی لئے جہلا صوفیہ پر رد و نکیر بھی زور و شور سے کرتا ہوں چناچہ بعضوں کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے بالکل شریعت کے مقابلہ میں ایک مخترع طریق اختیار کر رکھا ہے ان کے یہاں کوئی چیز ایسی نہیں جس میں کچھ نہ کچھ جہل شامل نہ کر دیا گیاـ ہو حضرت مولانا یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جاہل صوفی کا قول اس کی توجیہ میں بیان کیا کہ حضرت غوث اعظم کا لقب دستگیر کیوں ہے سو توجیہ یہ کی کہ ایک مرتبہ اللہ میاں اور غوث پاک ہوتھ میں ہاتھ ڈالے جارہے تھے اللہ میاں کا پیر پھسلا نعوذ باللہ حضرت غوث پاک نے تھام لیا اس وقت اللہ میاں نے فرمایا کہ دستگیر اس قدر جہل بڑھا ہوا ہے اور اب تو جہل کو ساتھ شرارت بھی ہو گئی ہے پہلے بدعتی ایسے نہ تھے اکثر اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے نیت خراب نہ تھی اور اب تو شریر ہیں نیت خراب ہے ـ شرارت پر یاد آیا ایک صاحب مجھ سے کہتے تھے کہ کاٹھیا واڑ میں میرے متعلق یہ مشہور کر رکھا ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے منع کرتا ہے ـ لاحول ولا قوۃ الا باللہ اب اس کا کیا علاج خیر عوام تو عوام ہی ہیں انکی کیا شکایت ان کے لکھے پڑھے ان سے زیادہ بگڑے ہوئے ہیں جیسے ایک بزرگ کا قول ہے کہ شیعوں کے عوام تو فاسق ہیں اور خواص کافر کیونکہ عوام کو تو کچھ خبر نہیں اور خواص جان کر سب کچھ کرتے ہیں اسی بناء پر ایک تجربہ کار صاحب کہا کرتے تھے کہ حیدرآباد دکن کے امراء تو جنتی اور مشائخ دوزخی ہیں اس لئے کہ امراء مشائخ کے ساتھ دین کہ وجہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مشائخ امراء کے ساتھ دنیا کی وجہ سے ایسے مرید نے پیر سے کہا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے وہ میری انگلیاں تو پاخانہ میں بھری ہیں اور آپ کی شہدا میں پیر بولے کہ ٹھیک ہے ہم ایسے ہی ہیں اور تو دنیا کا کتا مرید نے کہا کہ ابھی خواب پورا تو ہو جانے دیجئے جبھی تعبیر دیجئے یہ دیکھا کہ میں آپ کی انگلیاں چاٹ رہا ہوں اور آپ میری پیر بہت بگڑے واقعی ترجمانی کی حقیقت یہ ہی ہے کہ مرید بیچارہ تو پیرسے دین حاصل کرنا چاہتا ہے اور پیر مرید سے دنیا ـ

( ملفوظ 121 )ایمان کے لالے پڑ گئے ہیں

اب تو میں داڑھی کو بھی دیکھتا ہوں کہ ایمان بھی ہے یا نہیں اب تو ایمان کے لالے پڑ گئے میں جو اسی کو غنیمت سمجھتا ہوں کہ ایمان ہی سالم رہے ـ

( ملفوظ 120 ) چشتیہ کا متبع سنت ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عموما یہ خیال ہو گیا ہے ( صوفیہ کو عموما اور حضرات چشتیہ کو خصوصا بدنام کیا جاتا ہے ) کہ یہ بدعتی ہیں اور سنت کے مخالف ہیں اس کے متعلق مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ ایک رسالہ لکھا جائے اور ان حضرات کے اقوال و اعمال جمع کئے جائیں جن سے معلوم ہو کہ وہ کس قدر اتباع سنت کا کرتے تھے اس کا نام یہ ذہن میں آیا ہے ـ السنۃ الجلیۃ فی الچشتیہ العلیہ ۔ ( چناچہ اب بفضلہ تعالی شائع بھی ہو گیا ) ان حضرات اقوال و اعمال سے ایہام ہو جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات پر اس طرف کا غلبہ تھا صاحب حال تھے اس لئے معزور ہیں ایک ہی چیز دل میں سمائی ہوئی اور رچی ہوئی تھی اور سب سے ذھول تھا اور وہ چیز محبت اور یاد حق ہے اور حقیقت میں یہی ایک چیز یاد رکھنے کی ہے اس کو نہ بھلاوے باقی اور کسی چیز کے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ـ میری اس نصرت پر ایک صاحب معتر ضانہ لکھتے ہیں کہ تم صوفیوں کی بہت حمایت کرتے ہو مگر الحمد للہ میں بیجا حمایت تھوڑا ہی کرتا ہوں اور میں بھی تو جواب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تم صوفیہ کی مخالفت کرتے ہو بلکہ میں نے تو بہت سے خیالات کی اصلاح کر دی ہے چناچہ آجکل لوگوں میں عموما پیر کا بڑا مرتبہ سمجھا جارہا تھا حتٰی کہ باپ اور استاد سے بھی بڑا مگر میرے یہاں تحقیق ہے کہ اول مرتبہ باپ کا پھر استاد کا پھر پیر کا اس پر کہتے ہیں کہ تم صوفیوں کی حمایت کرتے ہو ـ

( ملفوظ 119 ) شاعری کا جواز اور اس کی حدود

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شاعری ناجائز ہے فرمایا کہ نا جائز تو نہیں لیکن بعضی شاعروں کے اکثر مضامین خلاف شریعت ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کے لئے بیشک ، ناجائز ہے اسی طرح اگر غلو انہماک زیادہ ہو جاوے اس کو بھی منع کیا جاوے گا ایک شاعر تھے اگر نماز میں کوئی شعر یاد آجاتا تو نماز توڑ کر اس کو لکھ لیتے کسی نے کہا یہ کیا کہا کہ نماز کو تو قضاء ہے مگر شعر کی قضاء نہیں اکثر جاہل شعراء کے یہاں تو اشعار میں کوئی حد ہی نہیں کسی غالی کا شعر ہے ـ
پئے تسکین خاطر صورت پیراہن یوسف محمد کو جو بھیجا حق نے سایہ رکھ لیا قد کا
جیسے یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کا پراہن رکھ لیا تھا نعوذباللہ اسی طرح حق تعالی نے حضور کا سایہ رکھ لیا تو حق تعالی کو یعقوب علیہ السلام پر قیاس کیا نعوذباللہ اب کہاں تک ان مضامین کو جائز کہا جا سکتا ہے باقی سایہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک ابر کا سایہ رہتا تھا پھر سایہ کیسے ہوتا کبھی کبھی ابر نہ بھی ہوتا تھا چناچہ حدیث شریف میں ایک صحابہ کا آپ پر کپڑے کا سایہ کرنا بھی ثابت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابر کا سایہ بھی دائمی نہ تھا ـ