(ملفوظ 278)عوام کی افراط وتفریط میں ابتلا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل افراط وتفریط میں لوگوں کو بیحد ابتلا ہورہا ہے اعتدال یہ ہے کہ نہ ایسی خشکی چاہئے کہ کسی چیز کا اثر ہی نہ ہو اور نہ ایسی تری کہ اس میں خود ہی ڈوب مرے اسی طرح بعض میں تو کلام کا قحط ہے کہ بات بھی پوری نہیں کہتے اور بعض کوکلام کا ہیضہ ہے کہ ضرورت سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور کلام ہی میں کیا منحصر ہے ہرچیز میں یہ ہی دیکھا جارہا ہے افراط و تفریط سے خالی نہیں ۔ ابن حزم تقلید کے جوپیچھے پڑے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تقلید کو کفر سمجھتے اورہم غیرمقلدوں کو اتنا برا نہیں سمجھتے جتنا وہ برا سمجھتے ہیں ہم کو تو پھر خیال رہتا ہے کہ حدود سے تجاوز نہ ہوجائے ان کو اس کی پروا نہیں ۔