( ملفوظ 427)عوام کا مساجد کے ائمہ کو تختہ مشق بنانا

ایک استفتاء آیا اس کو ملاحظہ فرمایا کہ کسی امام کے متعلق چند سوالات ہیں ـ اس کے نقائص لکھے ہیں بیچارہ اماموں کو لوگ اپنا تختہ مشق بنائے رکھتے ہیں ـ فتوی کو آڑ بنا کر لڑا کرتے ہیں مگر میں مسلمانوں کے افتراق کا سبب کیوں بنوں ـ میں اس باب میں سخت احتیاط کرتا ہوں ان مستفتیوں کی دوسروں کے عیوب پر تو نظر پڑتی ہے مگر اپنی خبر نہیں کہ ہم ہیں کیا کچھ بھرا ہوا ہے ـ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے یاد پڑتا ہے لکھا ہے کہ اے عزیز اس شخص کی کیا حالت ہے کہ اپنے جسم پو تو سانپ بچھو لیٹے ہوئے ہیں ـ ان کی خبر نہیں اور دوسرے کے جسم پر اگر مکھی بیٹھ گئی اس پر نظر ہے ـ خود کبائر میں مبتلا دوسروں کے صغائر پر مواخذہ خود صغائر میں مبتلا دوسروں کے مباحات پر موخذہ ـ