ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن بزرگوں کے ہم معتقد ہیں اللہ کا شکر ہے کہ ان کی کوئی بات بھی ہم کو ناگوار نہیں ہوتی وجہ یہ کہ ان کی صرف ایک ہی چیز لوگوں کو ناگوار ہے وہ اظہار حق ہے جس کووہ بدون خوف لومۃ لائم (کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ) کے ظاہر کرتے ہیں اورحق ہمیشہ کڑوا ہوتاہے ، الحق مر،، مشہور ہےاور یہی چیز ہم کو محبوب ہے پھرنا گواری کی
کیا گنجائش رہی بقول سعدی رحمہ اللہ معشوق من ست آنکہ بنزدیک توزشت ست
( میرا وہی محبوب ہےجوتمہارے نزدیک برا ہے ۔ 12)
باقی اس پرعوام کا مخالف ہونا لازمی امرہے ان دونوں میں تو لزوم ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ کسی سے اظہار حق کریں اور وہ مخالف نہ ہو ان کے ساتھ تو بہت زیادہ مخالفت لازمی ہوگی اور ان کی مخالفت توجاہل لوگ کریں ہی گے اس لئے کہ مصلح اور مبلغ سے خوش رہنا مشکل بات ہے ۔
