ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شبہات جوعوام میں پیدا ہوتے ہیں ان کا منشا اکثرجہل بسیط ہوتا ہے اسی لئے وضوح حق کے بعد بہت صاف الفاظ میں غلطی کا اقرار کرلیتے ہیں بخلاف مدعیان عقل کے کہ جہل مرکب میں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے انکار رجوع کرنا بھی رجوع کرنا بھی پیچدار عنوان سے ہوتا ہے ہمارے قصبہ میں ایک بڑی بی تھیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا اللہ میاں زندہ ہیں میں نے جواب میں مقدمات فطریہ سے کام لیا میں نے کہا کہ یہ بتلاؤ مینہ کون برساتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ یہ بچے وغیرہ کون دیتا ہے کہنے لگی اللہ میاں میں نے کہا کہ اب یہ بتاؤ کہ اگر زندہ نہ ہوتے تو یہ کام کون کرتا بڑی بی مان گئیں جنٹلمیں نہ تھیں ورنہ یوں کہتیں کہ میں پہلے سوال کو واپس لیتی ہوں کیا بیہودہ متکبرانہ کلمہ ہے جس میں ندامت کا نام تک نہیں مگرمہذہب لوگ اس کے اس قدر دلدار ہیں کہ تمام تہذیب کواسی ختم سمجھتے ہیں ۔
