(ملفوظ 316)عوام کے عقائد میں غلو :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اجکل عاملین کی بدولت عوام کے عقائد بہت ہی خراب اور برباد ہوگئے خصوص تعویز کے متعلق تو بہت ہی غلو ہوگیا ہے جس سے دین کا غلو معلوم ہوتا ہے ایک پہلوان نے بمبئی سے خط لکھا تھا کہ کشتی کے لیے ایک تعویذ دیدو تاکہ میں غالب رہا کروں میں نے لکھا کہ اگر دوسرا بھی ایسا ہی تعویذ لکوالائے پھر تعویذوں میں کشتی ہوگی اگر عوام کے عقائد کی یہی حالت رہی تو غالبا چند روز میں لوگوں کے ذہن میں نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی اس لئے نکاح میں تو بکھیڑا ہے وقت صرف ہوتا ہے قسم قسم کی سعی اور کوشش میں تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں مال صرف ہوتا ہے پھر آنے والی کا نان ونفقہ غرض بڑے بکھیڑے ہیں یہ درخواست کیا کریں گے کہ ایسا تعویذ دیدو کہ بدوں عورت کے اولاد ہوجایا کرے کرے بھلا کس طرح اولاد ہوجایا کرے گی آدم علیہ السلام کی تو پسلی سے حضرت حوا پیدا ہوگئی مگر پھر ایسا نہیں ہوا یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ خلاف معمول اولاد پیدا ہوجایا کرے ۔ اگرمیں تعویذ پرپانچ روپیہ مقررکردوں تو پھر کوئی ایک بھی تعویذ نہ مانگے ۔ غرض تعویذ کے متعلق عقیدے اچھے نہیں ۔