( ملفوظ 409)عوام کے اعتقاد کے لئے کمالات کا اظہار فضول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بزرگوں کے سامنے اپنی برائی ظاہر کرنا خواہ کسی رنگ میں ہو حد درجہ کی بے ادبی ہے ـ مثلا علم ہی میں اس کا اظہار ہو کہ ہم بھی پڑھے ہوئے ہیں اور غور کیا جائے تو چیزیں کچھ ناز کی بھی نہیں ـ کیونکہ ان میں کوئی ذاتی کمال نہیں ـ دیکھئے حضور کے امی ہونے کی تعریف فرمائی گئی ہے ـ اصطلاحی عالم ہونے پر فخر نہیں فرمایا گیا اور عوام کے اعتقاد کی غرض سے کمالات کا اظہار یہ تو بہت ہی بڑا مرض ہے اس سے تو اجتناب سخت ضروری ہے ـ عوام کا اعتقاد ہے ہی کیا چیز ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس اعتقاد کی ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے ہے تو فحش مگر ہے بالکل چسپاں فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے عقیدہ کی بالکل ایسی حالت ہے کہ جیسے گدہے کو عضو مخصوص بڑھے تو بڑھتا ہی چلا جائے اور جب غائب ہو تو بالکل پتہ ہی نہیں ـ واقعی مثال ہے ـ