(ملفوظ 372)عوام کی تحمل کی رعایت سے آزادی :

ایک صاحب نے تعویذ مانگا فرمایا کہ یہاں تعویذ لینے آئے ہوکیا پچھلی اذیتیں پہنچانا بھول گئے اب یہ چاہتے ہیں کہ یہاں آنے کو بھی منع کردوں کیا ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ کسی کے ذریعہ سے اپنا کام نکال لو اور مجھ معلوم بھی نہ ہو کہ کس کا کام ہے اب یہاں کیوں بیٹھے ہوکیا پچھلی یاد دلانے کو بیٹھے ہو مجھ کو تمہاری صورت دیکھ کرسب باتیں ستانے کی تازہ ہوگئیں فرمایا اگرکسی کے ساتھ تحمل کا برتاؤ کیا جائے تو وہ آگے کو بیٹھتا ہے جو شخص کسی کی رعایت کرے اس کو چاہیے کہ وہ بھی دوسرے کا خیال رکھے مگر آج کل لوگ رعایت کرنے سے لوگ آزاد ہوجاتے ہیں کیا صبر کرنے سے قلب سے اثر بھی مٹ جاتا ہے کیا سرخ رو ہوکر تعویذ مانگنے بیٹھے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے تو راہ بھی بتلادی کہ کسی اورکے ذریعہ سے کام نکال لینا چاہیے فرمایا کہ میں اس کی بھی رعایت رکھتا ہوں کہ کسی کے کام میں خلل نہ ہو مگر لوگ میرے رعایت کا خیال نہیں رکھتے ۔