ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہت سے انتظامی کام حکومت ہی کرسکتی ہے ایسے کام اسی ہی کے کرنے کے ہیں مثلا باجے اگرحکومت چاہے بند کرسکتی ہے رہا کتوں کے متعلق اول توپالنے کی ممانعت ہوسکتی ہے اوراگر ضرورت کے موقع کا استثناء بھی ہوتوقیود کے ساتھ ہوسکتا ہے مثلا یہ کہ باندھ کررکھو اس لیے کہ اندھیرے میں ستاتے ہیں کسی کا دامن پکڑلیا پیر پکڑلیا ، ایک ضروری انتظام یہ کرنے کے بل ہے کہ جانوروں کے بڑے بڑے گھنٹے بند ھوا دینے شاہئیں ، ایک مرتبہ میں نماز مغرب کچھ دیرسے مکان کی طرف جارہا تھا ایک سانڈے سامنے سے آگیا اندھیرا تھا نیز میں نیچی نظر کئے ہوئے جارہا تھا بلکل تصادم ہونے کو تھا مگر خداتعالٰی کی قدرت کہ وہ خود ایک طرف کوبچ گیا تو ایسے یہ سب انتظامات حکومت کرسکتی ہے اور عامہ خلائق کو راحت پہنچا سکتی ہے مگر یہ بھی جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ راحت پہنچانا مقصود بھی ہولیکن اس وقت اہل اقتدار کو راحت ہی پہنچانا مقصود نہیں محض پیسہ کمانا مقصود ہے مگر پھر بھی اور گورنمنٹوں سے غنیمت ہے خود غرض سہی مگرساتھ ہی ہماری بعضی غرضٰ بھی پوری ہوجاتی ہے ایک شخص نے خوب کہا ہے کہ بعضی گورنمنٹ کی مثال تودق کی سی ہے جس میں گھل گھل کرمرجاتا ہے اور بعضی گورنمنٹ کی مثال ہیضہ کی سی ہے کہ چٹ پٹ کام تمام ہوجاتا ہے اور دق میں چاربرس دس تک الجھا رہتا ہے ۔
