(مفلوظ 283)عوام الناس اور اہل اللہ کا مصائب کے وقت فرق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مصائب اور تکالیف تو سب پر صورۃ ایک ہی طرح کے آتے ہیں یعنی اللہ والوں پربھی اور دنیا داروں پربھی مگر دونوں کی حالت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے یہ بیماربھی ہوتے ہیں تو انہیں یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہائے بیماری بڑھ جائے گی توکیا ہوگا ۔ ہائے مقدمہ ہار گئے تو کیا ہوگا ہائے کھانے کوکل نہ ملا تو کیا ہوگا بلکہ ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ہرحال میں ان کو سکون ہوتا ہے ان کے قلب میں ایک چیز ایسی مخفی ہے کہ اس کے ہونے سے اطمینان اوریکسوئی ہوتی ہے مزاحا فرمایا کہ چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو بخلاف دنیا داروں کے کہ ان کی حالت اس کے عکس ہوتی ہے تومصائب اور تکالیف کا نہ آنا دلیل مقبولیت کی نہیں اس لئے کہ ایسے توبڑے بڑے انبیاء کے لئے بھی نہیں ہوا ان پربھی بڑی بڑی مصیبتیں آئی اور وہ مقبول تھے اورایک فرعون کو دیکھ لیجئے چارسو یا ساڑھے چارسو برس خدائی کا دعوی کیا کبھی سرمیں بھی درد نہ ہوا حالانکہ وہ مردود تھا جناب رسول للہ ﷺ ہیں کہ مہینوں آپ کا چولہا گرم نہیں ہوا ہنڈ یا نہیں چڑھی تو کیا نعوذ باللہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ ظاہری تکلیف نہ ہونے کی وجہ سے فرعون کو فضیلت ہوگئی یا نہ مقبولیت کی دلیل ہے علت ( مرض ) اور ذلت ( نقص جاہ ) اور قلت ( نقص مال ) تو ان حضرات کو زیور ہے ایک بزرگ کو ساری عمرمیں ایک روز ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا مل گیا اسی پرلرزاں اور ترساں تھے چہرہ زرد تھا جسم میں رعشہ تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت کیسے مزاج ہیں فرمایا کہ آج پیٹ بھرکرکھانا کھایا ہے خوف اس کا ہے کہ مجھ پردنیا کو فراخ کیا گیا کہیں آخرت تو تنگ نہیں کی گئی یہ حقیقت تھی عیش کی ان حضرات کی نظروں میں ۔
نوٹ : کچھ ملوظات درمیاں میں بعض عوارض کی وجہ سے چھپنے سے رہ گئے تھے ان کو اب شائع کیا جاتا ہے شاید تاریخوں کے سلسلہ کو غیر مسلسل دیکھ کرناظرین کو پریشانی ہوتی اس لئے اطلاعا عرض کردیا گیا ۔ 12مدیر۔
14 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دوشنبہ