ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آواز بھی غضب کی چیز ہے ـ آفت کی چیز ہے ـ اسی وجہ سے شریعت نے بعض اصوات سے منع کیا ہے اور اس راز کو فقہا نے سمجھا ہے ـ یہ ایک قسم کی آگ ہے تو کیا آگ میں کودنے کی شریعت اجازت دے سکتی ہے ـ سماع آگ ہے جس کو اطمنان ہو کہ میں نہ جلوں گا اس کو بشرائط جائز ہے اور جس کو یہ اطمنان نہ ہو اس کو کسی طرح جائز نہیں یہ آواز بڑی آفت کی چیز ہے ـ اس میں غضب کی خاصیت ہے ـ سنا ہے کہ دیپک ایک راگنی ہے اس کے گانے سے آگ لگ جاتی ہے ـ چراغ میں تیل بتی درست کر کے رکھو اور گاؤ چراغ روشن ہو جاتا ہے ـ
