(ملفوظ 395)اول بارہدیہ قبول کرنے میں خرابی :

فرمایا کہا ایک صاحب جو بہت متمول ہیں یہاں پرآئے اور ان کے آنے کا پہلا موقع تھا وہ صاحب بہت سے کپڑے وغیرہ لائے تھے بطور ہدیہ مجھ کو دینے لگے میں نے بوجہ مخالفت شرائط عذر کردیا میں پہلے ان قواعد پربہت سختی سے پابند تھا بطول مزاح فرمایا کہ جوں جوں سن بڑھنے سے بدن ڈھیلا ہوتا جاتا ہے قواعد بھی ڈھیلے ہوتے جاتے ہیں انہوں نے اپنے ایک رفیق سے شکایت کی انہوں نے کہا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کیجئے کہ جس چیز کی تلاش لے لئے آپ نے سفر کیا تھا وہ چیز مل گئی آپ اس سفر میں جہاں جہاں گئے ہرجگہ آپ کے نام کا وظیفہ پڑھا جاتا تھا اور یہاں پریہ برتاؤ ہوا کہ کسی نے پوچھا بھی نہیں تو وہ چیز یہاں ہے ان کا سفر سے مقصود تھا کہ کسی کو اپنا رہبر بناؤں اور دین کا تعلق پیدا کروں گا اس سے ان کی تسلی ہوگئی ایک اور صاحب علم کا واقعہ ہے جن کو یہاں آکر اپنے کھانے کا خود انتظام کرنا پڑا جو ظاہرا خشکی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صاحب چند شرائط ذہن میں لے کرچلے جاتے تھے کہ ایسے شخص سے تعلق پیدا کروں گا جن میں یہ صفات ہوں ماشاءاللہ آدمی فہیم اور سمجدار ہیں وہ صفات یہ ہیں کہ ایک تو آنے والوں کو کھانا نہ کھلایا جاتا ہو ورنہ دکانداری کا شبہ ہوگا دوسرے پڑھا لکھا ہو تیسرے اس کے یہاں ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہو چاپلوسی نہ ہو ایسے شخص سے بیعت کا تعلق کروں گا تو فہیم آدمی پرجلدی ہدیہ نہ لینے کا کھانے وغیرہ کی مدارت نہ کرنے کا اچھا اثرہوتا ہے پھرفرمایا کہ اول بارمیں ہدیہ قبول کرنے میں ایک خرابی یہ ہے کہ یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ ہدیہ دینے والا اپنی کوئی غرض لے ایا ہے یا کوئی اور مصلحت ہے سو بعض دفعہ ایسا ہوا کہ کوئی چیز میں نے قبول کرلی مگر اس شخص نے ساتھ ہی ساتھ کو ئی فرمائش کردی جس سے معلوم ہوا کہ یہ ہدیہ اسکی تمہید تھی اس وقت ایک غیرت سی معلوم ہوتی تھی کہ تجارت کی مشابہت ہوگئی اس لئے میں نے یہ قاعدہ مقرر کردیا کہ بدون بے تکلفی ہوئے ہدیہ قبول نہ کیا جاوے گا ۔