( ملفوظ 504)آیت وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ کا ایک نکتہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بیبیوں کے باب میں جو ارشاد : وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ہے میں اس کے متعلق کہا کرتا ہوں کہ دو وقت ہیں ایک تو جوانی کا اس میں تو جوش خروش کا غلبہ ہوتا ہے یہ حاصل ہے مودت کا اور جب ڈھل گئے تو اس وقت ہمدردی کا غلبہ ہوتا ہے یہ حاصل ہے رحمت کا اور یہ بھی لغتہ محبت ہی کی ایک فرد ہے مگر عرف و محاورہ میں اس کو محبت کہتے نہیں اس کا نام عرف میں ہمدردی رحم مہربانی ہے اور یہ نکتہ اسی محاورہ پر مبنی ہے ـ