ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص علوم عالیہ کو حاصل کئے ہوئے ہو تب قرآن و حدیث کو سمجھ سکتا ہے اب جاہلوں کی اصطلاحوں کو کلام میں ٹھونس کر کام نکالنا چاہتے ہیں جس سے بالکل غیر ممکن ہے کہ حقیقت کا انکشاف ہو سکے اور علوم کے ساتھ اس انکشاف کے لئے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور ذوق بدوں کسی کامل کی صحبت کے پیدا نہیں ہو سکتا ۔ مگر ان چیزوں کا اہتمام ہی نہیں اور یہ ساری خرابی اس کی ہیں کہ لوگوں کے قلوب میں خوف آخرت نہیں رہا اور نہ آخرت کی فکر ہے اسی لئے ہر شخص مقرر ہے ہر شخص مفسر ہے ہر شخص محدث ہے ہر شخص مصنف ہے آزادی کا زمانہ ہے نہ اصول ہیں نہ قواعد ۔ جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں اگر فکر آخرت ہو تو ہر چیز میں احتیاط اور حقیقت کی تلاش ہو اور اس کے لئے اس کے اسباب کی کوشش ہو ۔
