ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف پر جو اعتراضات ہیں لوگوں کے انکے معاملات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتا اس لئے اعتراض کرتے ہیں جامعیت اور کاملیت کے بعد بھی باستثنا راسخین اکثر کو جب ایک طرف مشغولی زیادہ ہو جاتی ہے دوسری طرف سے ذہول ہونے لگتا ہے تو اس جانب کے حقوق میں بعض اوقات کوتاہی ہوتی ہے اس لئے یہ حضرات معذور تھے اعتراض کرنے والوں کے کیا خبر کہ کسی پر کیا گزر رہی ہے اور کس حالت میں ہے اصل میں یہ حضرات عاشق تھے تو عشق کے غلبہ میں کوئی فرو گزاشت ہو جانا بعید نہیں چناچہ عشق کے غلبہ میں بعض بزرگوں کے جذبات کے بعض واقعات یاد آگئے جو ظاہری انتظام کے خلاف تھے ـ ہمارے حضرت حاجی صاحب نے مرض الموت میں مولوی اسماعیل صاحب مقیم مکہ سے فرمایا میں نے اوروں سے تو کہا نہیں تم سمجھدار ہو تم سے کہتا ہوں میرا یوں جی چاہتا ہے کہ میرے جنازہ کے ساتھ ذکر جہر کیا جائے انہوں نے کہا کہ حضرت فقہا نے مکروہ کہا ہے حضرت نے فرمایا بہت اچھا جیسے مرضی ہو جب حضرت کا جنازہ چلا ایک عرب کو خود بخود جوش آیا اور حاضرین سے کہا اذکراللہ اور بلند آواز سے ذکر شروع کر دیا پھر کیا تھا تمام مجمع ذکر میں مشغول ہو گیا تب مولوی صاحب نے کہا کہ حضرت یہ ہی چاہتے تھے میں نے حضرت کو تو منع کر دیا تھا اب اسکو کون منع کرے ـ ایک بزرگ نے وصیت کی تھی ـ کہ ہمارے جنازہ کیساتھ کوئی خوش آواز پڑھتا ہو چلے ـ
مفنسا نیم آمد یم بکوئے تو ، ثیا اللہ از جمال روئے تو دست بکشا جانب زنبیل ما ، آفرین بر دست و بر بازوئے تو
حضرت سلطان جی کے جنازہ کے ساتھ ان کے ایک مرید نے ولولہ میں یہ اشعار پڑھنے کئے ـ
سرو سیمینا بصحرامی روی ، سخت بے مہری کہ بے مامی روی
آفرین بر دست و بر بازوئے تو سخت بے مہری کہ بے مامی روی
اے تماشا گاہ عالم روئے تو تو کجا بہر تماشا می روی
( ہم مفنس ہیں تیرے در پر آئے ہیں ـ اپنے چہرہ کا تھوڑا سا جمال دکھا دیجئے ـ ہماری جھولی کی طرف ہاتھ بڑھائے آپ کے دست و بازو پر آفرین ہو ـ 12 اے محبوب تو بڑا ہی بیوفا ہے کہ بغیر ہمارے جنگل کی طرف سیر و جارہا ہے تو تو سارے عالم کے لئے تماشا گاہ ہے پھر تو سیر و تماشا کے لئے جا رہا ہے ـ 12 ـ )
حضرت سلطان جی کا کفن سے باہر ہاتھ نکل آیا سماع ایسا تو ہو کہ مرنے کے بعد بھی سماں ( لطف ) دکھا وئے ـ
11 صفر المظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ ،
