ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو نوکریاں نا جائز ہیں ـ ان کے کرنے میں مفسدہ ضرور ہے مگر جس کو حلال نوکری نہ ملے اسکے لئے نہ کرنے میں اس سے زیادہ اندیشہ ہے ـ اس لئے کہ افلاس سے بعض اوقات کفر تک نوبت آجاتی ہے ـ تو یہ معصیت کفر کی وقایہ ہو جاتی ہے ـ اس وقایہ کی ایک جزئی یاد آگئی کان پور کے علاقہ میں ایک گاؤں ہے گنجیر وہاں پر مسلمان رئیس تھا ـ اس کا نام تھا ادھارسنگہ میں نے سنا تھا ـ کہ اس گاؤں کے لوگ آریہ ہونے والے ہیں میں ایک مجمع کے ساتھ ان کی تبلیغ کے لئے وہاں گیا تھا ـ ادھار سنگہ سے بھی اس کا ذکر آیا تو اس نے جواب میں کہا کہ ہم آریہ کس طرح ہو سکتے ہیں ـ ہمارے یہاں تو تعزیہ بنتا ہے میں نے کہا کہ تعزیہ بنانا مت چھوڑنا ـ بعض لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا میں نے کہا کہ تم نے غور نہیں کیا ـ یہ شخص جب تک تعزیہ بنائے گا ـ کافر نہ ہوگا ـ تعزیہ بے شک معصیت اور بدعت ہے مگر اس کے لئے تو یہ معصیت اور بدعت وقایہ کفر ہے ـ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک زمانہ میں اجمیر تشریف رکھتے تھے ـ اتفاق سے عشرہ محرم میں ایک مقام پر تعزیہ داروں میں اور ہندوؤں میں جھگڑا ہے ـ کوئی درخت تھا وہاں کے سنی عمائد نے علماء سے استفتاء کیا کہ ہندوؤں کا اور تعزیہ داروں کا جھگڑا ہے ـ اور ہم کو کیا کرنا چاہئے ـ علماء نے جواب دیا کہ کفر اور بدعت کی لڑائی ہے ـ تم کو الگ رہنا چاہئے ـ پھر وہ لوگ مولانا کے پاس دریافت کرنے آئے ـ مولانا محمد عقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بدعت اور کفر کی لڑائی نہیں ہے ـ بلکہ اسلام اور کفر کی لڑائی ہے ـ کفار بدعت سمجھ کر تھوڑا ہی مقابلہ کر رہے ہیں وہ تو اسلامی شعار سمجھ کر مقابلہ کر رہے ہیں ـ جاؤ انکا مقابلہ کرو غرضیکہ تمام مسلمان متحد ہو کر لڑے فتح ہوئی تو ان چیزوں کو سمجھنے کے لئے فہم اور عقل کی ضرورت ہے ـ صرف ایک ہی پہلو پر نظر کرنا چائے ـ شعار اسلامی سمجھنے پر ایک واقعہ یاد آیا ـ کیرانہ میں زمانہ تحریک خلافت میں میری ایک مولوی صاحب سے گفتگو ہوئی ـ میں نے کہا کہ اور بات تو بعد میں ہوگی پہلے ترکوں کی سلطنت کو اسلامی سلطنت تو ثابت کر دیجئے تب دوسروں کو نصرت کی ترغیب دیجئے گا اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتلایئے کہ مجموعہ کفر اور اسلام کا کیا ہوگا کہا کہ کفر میں نے کہا کہ اب یہ بتلاؤ کہ ترکوں کی حکومت جو اس وقت ہے وہ شخصی ہے یا جمہوری کہا کہ جمہوری ـ میں نے کہا کہ اس میں جو پارلیمنٹ ہے وہ کفار اور مسلمانوں سے مرکب ہے ـ یا خلاص مسلمانوں کی جماعت ہے کہا کہ مسلم اور کافر میں مشترک ہے ـ میں نے کہا کہ مجموعی کیا ہوا ـ پھر نصرت کیسی غیر اسلامی سلطنت کی نصرت کراتے ہو ـ حیرت زدہ رہ گئے ـ کہنے لگے کہ یہ تو کچھاور ہی نکلا ـ سارا بن بنایا قصر ہی منہدم ہو گیا ـ میں نے کہا کہ اگر آپ جواب نہ دے سیکں تو اپنے علماء اور لیڈروں سے پوچھ کر جواب دو ـ خاموش تھے بیچارے میں نے کہا کہ جاؤ جن کو مخالف سمجھتے ہو اور خشک ملا کہتے ہو ـ اس کا جواب بھی انہی کے پاس ہے ـ ہم کہتے ہیں کہ پھر بھی انکی نصرت واجب ہے اس لئے کہ کفار تو اس کی اسلامی سلطنت ہی سمجھ کر مقابلہ کر رہے ہیں اسلیئے اس وقت ترکوں کی نصرت اسلام اور مسلمانوں کی نصرت ہے ـ اس پر بے حد خوش ہوئے اور دعائیں دیں ـ اور مجھ کو خوشی میں کچھ نقد نزرانہ بھی دیا ـ
