( ملفوظ 338) بعض متعلقین کا اختلاف اور حضرت کا طرز عمل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت کے زمانہ میں میں نے فلاں صاحب سے جو یہاں خانقاہ میں مقیم تھے کہا تھا کہ تم یہاں پر رہے ـ پلے بڑھے سب کچھ ہو مگر میں پھر بھی تمہاری رائے میں مزاحمت نہ کروں گا ـ مگر تم کو بھی یہاں رہ کر اختلاف کرنا مناسب نہیں تو اس حالت میں یہاں پر تمہارا رہنا بھی مناسب نہیں ـ ایک جگہ سے دو مختلف جواب ملنا اس میں بڑا مفسدہ ہے باقی اگر تم اپنی رائے پر عمل کرو اور طریقہ کے ساتھ کرو تو مجھ کو بحمدللہ ایسے اختلاف سے کبھی گرانی نہیں ہوتی ـ گرانی ہوتی ہے خلاف سے اور یہ بھی صرف ان کے خلاف سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں ـ تعلق کو ظاہر کرتے ہیں ـ ورنہ اوروں کی طرف سے خلاف کرنا بھی گراں نہیں ـ فلاں خاح صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں ـ کافر کہا ذرہ برابر بھی مجھ پر اثر نہیں ہوا ـ اس لئے ک وہ مخالف تھے ـ شکایت دوستوں سے ہوا کرتی ہے ـ دشمنوں سے کیا شکایت ـ ایک دوسرے صاحب کا واقعہ ہے کہ انہوں نے یہاں کا رد لکھا اور لوح پر بلا ضرورت خانقاہ امدادیہ کا نام بھی لکھ دیا ـ پھر بھی معافی چاہی میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ عمل تو اسی پر کرو جو تمہاری رائے ہے اور جب تم معافی چاہتے ہو تو اس کا اعلان کر دو کہ رائے تو میری وہی ہے جو لکھ چکا ہوں مگر میں نے جو لوح پر یہ لکھا ہے کہ یہ خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کا جواب ہے ـ کہ اسے لکھنے کی ضرورت نہ تھی جواب تو بدون اس کے بھی ہو جاتا لوگ خود سمجھ لیتے کہ فلاں فتوے کا رد ہے ـ بس اس طرح کا اعلان کر دو مگر وہ اس اعلان پر آمادہ نہ ہوئے میرا بھی دل منقبض رہا ـ میرا خاصہ ہے کہ اگر کوئی اصول صحیحۃ پر رہے تو مجھ کو محبت بدرجہ عشق ہوتی ہے اور اگر اصول کے خلاف ہوتو اس سے قلب پھر جاتا ہے ـ مگر اب دس برس کے بعد اعلان کیا میں صاف ہو گیا کیونکہ مجھ کو تو دیکھنا تھا ورنہ اعلان نہ کرنے سے میرا کوئی ضرر نہ تھا ـ اور اب اعلان کر دیا میرا کوئی نفع نہیں ہو گیا ـ نفع اور ضرر سب انہیں کا تھا ـ اور یہ ہی میں فلاں مولوی صاحب سے چاہتا ہوں جو دارالعلوم دیوبند کو بندنام کر چکے ہیں اور اب معافی چاہتے ہیں ـ ان سے بھی اس لئے انقباض ہوا کہ وہ مجھ سے ایک زمانہ میں تعلق رکھ چکے ہیں اور مجھ سے تربیت کی خدمت لے چکے ہیں گو ممکن ہے کہ ان کو ضرورت نہ ہو مگر خدمت لی تو یہی ـ ان چیزوں کا طبعی اثر ہوتا ہے پھر اس میں تو میرا معاملہ بھی نہیں ـ مدرسہ کا معاملہ ہے ـ وہ ایک چیز ہے جس سے مخلوق کو نفع ہو رہا ہے ممکن ہے اس میں کچھ کوتاہیاں ہوں اور اصلاح کی ضرورت ہو ـ اصلاح کرو نہ کہ انہدام کرنے لگو مدرسوں کو بدنام کرنے کا جو طرز اختیار کیا گیا تھا اس کے تدارک کے لئے اس اعلان کی ضرورت ہے کہ ہم نے جو طرز اختیار کیا تھا وہ غلط تھا گو مطالبات ہمارے اب بھی وہی ہیں اور مشورہ یہ ہے لیکن اگر ہماری رائے قبول نہ کی جاوے ہم پھر بھی مدرسہ کے خادم ہیں ـ بتلائے اس میں کیا ضرر ہے تو سب کی مصالح کی رعایت رکھتا ہوں ـ مگر بے اصول کام مجھ سے نہیں ہو سکتے ـ معافی بھی بے اصول نہیں ہو سکتی ـ چاہے کسی کو گوارا ہو یا نا گوار ـ کوئ راضی رہے یا نا راض اور کسی کی ناراضگی سے ہوتا کیا ہے ؟ حق تعالی راضی رہیں اور کسی کی کچھ پروا نہیں کرنا چاہئے ـ ایک اور صاحب کا واقعہ ہے جن کو محبت اور تعلق کا دعوی تھا مگر انہوں نے ایک تحریر لکھی اس میں میرے متعلق طعن آمیز کلمات لکھے تھے ـ وہ یہاں پر مہمان ہوئے ہیں ـ میں نے بحمدللہ ان کے حقوق مہمان کے ادا کرنے میں ذرا کوتاہی نہیں کی مگر جو شکایت ان سے بھی وہ اب بھی ہے اور جب تک اس کا تدارک نہ ہوگا رہے گی ـ باقی مجھے تدارک کا نہ انتظار ہے نہ استدعا ہے اسلئے کہ یہاں تکثیر سواد کی ضرورت ہی نہیں ـ یہی تو میرا گنوارا پن ہے ـ جس کی وجہ سے بکثرت لوگ مجھ سے ناراض ہیں ـ اسی اخیر کے واقعہ میں انہوں نے تو اپنی اس نکال لی مگر مجھ کو وہ نا راضی ادائے حقوق سے مانع نہیں ہوئی ـ ہاں انبساط نہیں ہوا اور ان پر ظاہر بھی کر دیا کہ میں ناراض تھا اور اور ہوں اور رہوں گا ـ مجھ کو رنج تھا اور ہے اور رہے گا ـ مجھ کو آپ سے شکایت تھی اور ہے اور رہیگی اس کو بھی صاف کہہ دیا یہ اس معاملہ کا حق تھا اس کو بھی نہیں چھپایا ـ