ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق میں نفع مناسبت پر موقوف ہے ـ بدون مناسبت کے نفع نہیں ہو سکتا ـ وہ صاحب ایک مولوی صاحب کو سفارش کے لئے لے کر آئے کہ ہم کو بیعت کر لیا جائے ـ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ ہی بیعت کر لیں ـ ان کو آپ سے مناسبت ہے ـ اس لئے کہ آپ بھی خادم قوم ہیں ـ یہ بھی خادم قوم ہیں اور میں نہ خادم قوم ہوں ـ کہ کبھی قوم کو نفع نہیں پہنچایا اور نفع کا مدار اس طریق میں مناسبت پر ہے ـ اور میرے طریق میں جب تک تمام تعلقات غیر ضروریہ کو قطع نہ کر دے کام نہیں چل سکتا ـ ان دو صاحبوں میں نے ایک نے کہا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کچھ روز کے لئے تمام تعلقات سے یکسوئی کر لیں اس کے بعد پھر پہلے کام میں لگ جائیں ـ میں نے کہا کہ کام کی بات پوچھی اب جواب سنئے کہ عزم تعلقات ولو بعد حین ( اگرچہ عرصہ کے بعد ) یہ بھی مانع نفع ہے کیونکہ اس صورت میں یکسوئی کب ہوئی ـ جب یہ خیال رہا کہ پھر یہ کرنا ہے یکسوئی تو جب ہو سکتی ہے کہ عمر بھر کے لئے قطع کا ارادہ کر لے پھر خواہ شیخ اپنی رائے سے کسی تعلق کو تجویز کر دے
