ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ جو بچوں کو پڑھانے والے میاں جی ہوتے ہیں کافی علم تو ان کو ہوتا نہیں پھر کرتے ہیں حکومت اس سے اور بھی خرابی پیدا ہو جاتی ہے اکثر ان میں عقل کی کمی ہوتی ہے اس طبقہ میں کثرت سے حماقتیں کرتے ہیں ایسے ہی اسکولوں کے ماسٹر وغیرہ یہ بھی اس ہی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں بات یہ ہے کہ جیسے کبر کے لئے حماقت لازم ہے ایسی حماقت کے لئے کبر لازم ہے متکبر آدمی ہمیشہ احمق ہوتا ہے اور ان میاں جیوں کی رعونت کی اصلی وجہ یہ ہے کہ ان کو حکومت کا موقع ملتا ہے اور جن پر حکومت کرتے ہیں وہ ہوتے ہیں سب نا سمجھ اور مغلوب کوئی ان کے عیوب بیان کر نہیں سکتا اس لئے زیادہ خراب ہو جاتے ہیں سمجھتے ہی کہ ہر بات ہماری عقلمندی اور سمجھداری کی ہوتی ہے اس کی وجہ سے دماغ سڑ جاتا ہے البتہ اگر معلم پورے عالم ہوں تو وہ بے شک عاقل ہوتے ہیں ان کی یہ حالت نہیں ہوتی مگر یہ درمیانی میاں جی تو یونہی ہوتے ہیں اپنی عقل بچوں ہی کودے بیٹھتے ہیں ـ
