( ملفوظ 263) بچوں کی شوخی شرارت محبوب ہوتی ہے

ایک صاحب نے اپنے لڑکے سے کہا جس کی عمر تقریبا سات یا آٹھ سال کی تھی کہ حضرت کو سلام کرو فرمایا کہ ان کا یہی اسلام ہے ـ جس میں یہ خوش رہیں فرمایا کہ اسلام بریاد آیا ـ حضرت مرزا صاحب مظہر جان جاناں رحمہ اللہ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا کہ ہم تمہارے لڑکوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ـ انہوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت ہیں نازک مزاج اور لڑکے ہوتے ہیں شوخ اور شریر ایسا نہ ہو کہ بے ڈھنگا پن کریں اور حضرت کے مزاج کے خلاف ہو اس سے حضرت کو تکلیف پہنچے کوئی بہانہ کر کے ٹال دیا ـ حضرت نے پھر دریافت فرمایا اب یہ سمجھے کہ بدون لڑکوں کے لائے پیچھا نہ چھوٹے گا ـ آخر لائے اور لانے سے پہلے ان کو تعلیم دی کہ دیکھو نیچی نظر کئے بیٹھے رہنا جو بات حضرت پوچھیں جواب دینا کوئی حرکت خلاف متانت نہ کرنا ـ اب آئے تو حضرت نے ان سے خوش مزاجی کی باتیں شروع کیں اب وہ لڑکے ہیں کہ سر نیچا کئے بیٹھے ہیں ـ کچھ حرکت نہیں کرتے حضرت نے بے حد کوشش کی کہ یہ کھلیں مگر ان میں کوئی تغیر نہ ہوا ـ حضرت نے فرمایا میاں تم اپنے لڑکوں کو نہیں لائے ـ عرض کیا کہ حضرت یہ حاضر تو ہیں فرمایا کہ یہ لڑکے ہیں یہ تو تمہارے بھی باوا ہیں ـ لڑکے تو ایسے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمارا عمامہ اتار لے جاتا ـ کوئی گود میں چڑھ بیٹھتا کوئی کندھے پر سوار ہو جاتا ہے ـ واقعی یہ حضرات بڑے حکیم اور عادل ہوتے ہیں اس قدر تو نازک مزاج مگر بچوں سے وہی چاہتے تھے جو ان کا زیور ہے ـ شوخی شرارت کیونکہ ان کی تو یہی باتیں محبوب معلوم ہوتی ہیں ـ