(ملفوظ 56) بدسلیقگی اوربے اصولی پرعتاب :

ایک صاحب مجلس خاص کے وقت آکر باوجود قریب جگہ ہونے کے مجلس سے فصل پر بیٹھ گئے حضرت والانے دیکھ کر فرمایا کہ اور ہٹ وہاں کنارے پربیٹھئے اس طرف سے بھڑنہ جاؤ اور کہیں کو ئی نیک بات کانو ں میں نہ پڑجائے بلکہ اس طرف سے پشت کرے بیٹھئے اس طرف دیکھنا بھی گناہ ہے اس پران صاحب نے عرض کیا کہ غلطی ہوئی معاف فرمائیں فرمایا معاف ہے مگرکیا بدتمیزی پرمطلع بھی نہ کروں تم جیسے اس کو غلطی سمجھتے ہومیں مطلع نہ کرنے کو غلطی سمجھتا ہوں بندہ خدایہ تو موٹی موٹی باتیں ہیں اتنی بھی تمیز نہیں کیا بدفہمی کا کوئی خاص مدرسہ ہے کہ وہاں پر تعلیم پاکر آتے ہو یا سارے بدفہم اور بدعقل میرے ہی حصہ میں آگئے یا چھٹ چھٹ کرآتے ہیں اس سے کوئی پوچھے کہ آخرآنے سے نتیجہ کیا جب اتنے فاصلہ پربیٹھے کہ جہاں آواز بھی نہ پہنچ سکے خدانا س کرے ان رسوم کا بے حدلوگوں کو اس میں ابتلاء ہورہاہے بے ادب اس کو ادب سمجھتے ہیں حالانکہ یہ حرکت بالکل خلاف ادب ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا کچھ لے کربھاگیں گے آپ کی
ہیت ملاخطہ ہو جیسے کوئی چورآکر بیٹھ جاتا ہے ایسے ایسے بدفہم یہاں پر آتے ہیں دل آتے ہی مکدرکردیتے ہیں پھر کیا خاک نفع حاصل کرینگے اب مجھ کو تو بدنام کریں گے جاکر کہیں گے کہ بہت ہی بدخلق ہے اوراپنی حرکت کا خفاء کریں گے یہ نہیں کہیں گے کہ میں نے یہ خوش خلقی کا برتاؤ کیا تھا اس پر اس کی یہ بدخلقی ہوئی خیر کریں
بدنام میرا تو نفع ہی ہے وہ یہ کہ پھرایسے بدفہم تونہ آئیں گے یہ عرفی دل جوئی اورجگہ ہوتی ہے میرے یہاں تودل شوئی ہے اگرمیرا طرزپسندنہ ہو نہ آؤ بلانے کون جاتا ہے اس پربھی اگر آؤ گے تو میں ضرور بدتمیزیوں سے آگاہ کروں گا روک ٹوک کروں گا میں خاموش رہنے کو خیانت سمجھتا ہوں خاموش رہنے پر اصلاح کیسے ہوسکتی ہے یہ تو آسان ہے کہ اصلاح کاکام بندکردوں مگر اصلاح کاکام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کروں اور بدتمیزیوں پرمطلع نہ کروں یہ مجھ سےنہیں ہوسکتاچاہے کسی کو اچھا معلوم ہو ا یا برا معلوم ہو میں کسی وجہ سے اپنی طرز کو بدل نہیں سکتا اور اس موقع پر میں یہ پڑھاکرتا ہوں
ہاں وہ نہیں وفاپرست میں تویہ جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہوجان ودل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں
اور یہ پڑھا کرتاہوں
دوست کرتے ہیں شکایت غیرکرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھے کو سب برا کہتے ہیں
مجھ کو بحمداللہ اس کی پرواہ نہیں میں ہی سب کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کررہاہوں اور مگردوسروں کے اخلاق تو خراب ہوئے آخرکہاں تک صبر سے کام لیا جائے
کوئی حدبھی ہےبدوں اس طریق اورطرز کے اس فعل کی قباحت ان کے ذہن میں نہیں آسکتی تھی جوبات دل میں بٹھلانا چاہتا ہوں بدوں اس طرز کے بیٹھ نہیں سکتی اور اگر یہ طرز پسند نہیں تو کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہاتھ جوڑکر سامنے حاضرہوکر عرض کروں کہ حضور آپ سے یہ غلطلی ہوئی جوبات جس طرح ہےاور جس طریق
سے کہنے کی ہوگی اسی طرح کہی جائے گی اس پر بھی اگرکوئی نہ سمجھے تومیں کسی کی بدفہمی کا کیا علاج کر سکتاہوں اور یہ تو آج نئے نہیں آئے نہ معلوم یہ نئی حرکت کہاں سے سیکھ کے آئے اوراس وقت ممکن ہے کہ ان کے دل میں یہ شکایت ہوکہ میرے ساتھ ایسابرتاؤ کیوں کیا بات یہ ہے کہ جتنی تہذیب کی توقع ان کو مجھ سے تھی اس
سے زائد مجھ کو ان سے تھی مگر انتداء انہوں نے کی اسی پرمیں کہہ رہاہوں توذمہ دار یہ ہیں میں نہیں ہوں اور کیا سلیقگی اور بے اصولی سے مجھ کو فہم کا اندازہ نہیں ہوسکتا ذراسی بات سے آدمی کے فہم کا پتہ چل جاتا ہے اوریہ تو بہت کھلی ہوئی بات ہے جس کا ان سے صدور ہوا اب باہر جاکر مجھکو بدنام کریں گے کہ بدخلق ہے سخت ہے میں بحمداللہ سخت نہیں ہوں اس سختی کو یہاں کے رہنے والوں سے دریافت کرو وہ بتلائیں گے مزاحافرمایا کہ میرے مزاج میں درشتی نہیں ہے درستی ہے میں سخت نہں ہو ں مضبوط ہوں جیسے ریشم کا رسہ کہ نرم تواس قدر کہ چاہے جس طرح موڑ توڑ لو اور جس طرح گرہ لگالو مگرمضبوط اس قدر کہ اگر اس میں ہاتھی کو بھی باندھ دو
تو وہ بھی نہیں توڑسکتا لوگ سختی اور مضبوطی ہی میں فرق نہیں سمجھتے چکنی چپڑی باتیں بنانے کو یا آہستہ بولنے ہی کو خوش خلقی نہیں کہتے ۔