(ملفوظ 141) بیعت کی غایت اطلاع حالات پرہے :

ایک مہمان بہت دور کے رہنے والے آئے تحقیق کرنے پرمعلوم ہوا کہ کابل سے بھی ایک ماہ کی مسافت پران وطن ہے انہوں نے بیعت کی درخواست کی اس پر فرمایا کہ ہرمطلوب میں مقصود اس کی غایت ہوتی ہے اور اس کا ترغیب عادۃ موقوف ہے اطلاع حالات پراورآپ کے یہاں شاید ڈاک کا انتظام نہ ہوتوایسی حالت میں اگرآپ اپنے حالات کی اطلاع نہ دے سکے تونری بیعت سے کیا فائدہ ان صاحب نے عرض کیا کہ ڈاک کا انتظام کافی ہے برابر وہاں سے ہندوستان میں خطوط کی آمد ورفت رہتی ہے میں ضرور حضرت سے اپنی اصلاح کے متعلق خط وکتابت رکھوں گا فرمایا کہ اگریہ بات ہے تومجھ کو خدمت سے کیا عذرہوسکتا ہے میں تواس کام کے لئے بیٹھا ہی ہوں باقی جوشبہ تھا وہ آپ سے کہہ دیاگیا اوربتلادیا گیا کہ بیعت اصل نہیں اصل دوسری چیز ہے اور آپ کے جواب سے وہ شبہ رفع ہوگیا اب آپ کو ان شاء اللہ تعالٰی بعد نمازمغرب بیعت کرلوں گا آپ یاداشت کے طور پرایک پرچہ لکھ کرمجھ کودیدیں اس میں اپنا نام اورلفظ بیعت لکھ دیں تاکہ مجھ کو یاد رہے ان صاحب نے ایک پرچہ لکھ کرپیش کردیا اور بعد نماز مغرب نفلوں سے فراغ پران صاحب کو بیعت فرما لیا گیا ۔