( ملفوظ 552 )بندہ کا ارادہ کچھ نہیں

فرمایا ارادہ بندہ کا کچھ بھی نہیں حضرت علی فرماتے ہیں عرفت ربی بفسخ العزائم یعنی میں نے اپنے رب کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹنے سے بسا اوقات انسان اپنے ارادوں میں ناکامیاب رہتا ہے ہزاروں ارادے مصمم کئے مگر کچھ نہ ہوا اسی واسطے ابن عطاء اسکندری فرماتے ہیں کہ ارید ان الا رید یعنی میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ ارادہ نہ کروں گا اس پر بعض لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ عدم ارادہ بھی ازادہ ہی ہے انہوں نے خود کیا اچھا جواب دیا ہے کہ جس ارادہ کی نفی کی جارہی ہے وہ تو اس لئے قابل ترک ہے کہ وہ خلاف تفویض و رضا ہے اور عدم ارادہ کا خود عین تفویض و موافق رضا ہے اس لئے یہ منفی و قابل ترک نہیں ـ