(ملفوظ 85 )بڑوں کی بدفہمی کی شکایت :

ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگرچھوٹا بچہ باپ کی ڈاڑھی بھی نوچنے لگے توکوئی رنج نہیں ہوتا اس لئے بچہ ہے اس کو کیا خبرہے عقل ہے بلکہ الٹا باپ اس کے ہاتھ چومتا ہے رنج تواس کاہوتا ہے کہ سمجھدار عاقل ہوکر پھرایسی حرکت کرے دیکھئے یہی خط جوبے ڈھنگے پن سے لکھا گیا ہے یہ ہی کیااذیت کے لئے تھوڑا ہے خدا معلوم تہذیب کہاں رخصت ہوگئی یہ اس آزادی کی نئی تعلیم کااثر پرانی تعلیم والوں پربھی ہوگیا اس تعلیم میں کیسازہریلااثر ہے میں نے جواب بھی ایسا لکھا کہ طبیعت خوش ہوجائے گی میں ہی کیوں رعایت کروں جب ان ہی بے فکروں کو دوسرے کی اذیت کا خیال نہیں پھر مجھ کو بدنام کرتے ہیں کہ بدخلق ہے سخت گیرہے یہ بڑے باخلق اور نرم گیرہیں شرم نہیں آتی نالائقوں کو ۔