ایک نو وارد مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت نماز عید میں اگر واجب ترک ہوجائے اتنا ہی کہنے پائے تھے حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ میں نے پہنچانا نہیں کون صاحب ہیں عرض کیا کہ فلان ہون اور صبح حاضر ہوا ہوں فرمایا کہ مجھے مسائل جزئیہ یا د نہیں ہیں میں خود اپنی ضرورت کے وقت دوسرے علماء سے پوچھ پوچھ کرعمل کرتا ہوں دوسرے یہ کہ فقہ کے مسائل کی تحقیق کی جگہ نہیں یہ ایک مستقل کام ہے الحمداللہ دیوبند اور سہارنپور میں بڑے پیمانہ پر ہورہاہے اور کیا آپ کے آنے کا مقصد ان مسائل کی تحقیق ہے عرض کیا کہ ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا ہوں فرمایا پھر یہ زیادتی کیوں کی ہرشے کا محل اور موقع ہوتا ہے اور میں اپنی حالت سے آپ مطلع کئے دیتا ہوں کبھی آپ دھوکے میں رہیں وہ یہ کہ میں ایک طالب علم ہوں ادھورا سا جو کچھ پہلے ٹوٹا پھوٹا پڑھا تھا آپ وہ بھی بھول بھال گیا اور اس کام کے کرنے والے ماشاء اللہ بہت ہیں پھر یہ کہ کیا سارے مقاصد کی مشق کے لیے میں ہوں اس کی بلکل ایسی مثال ہے کہ آپ لوہا ر کے پاس جاکر کہیں پازیب اور چھاگل بنادے وہ کہے گا کہ میں اس خدمت سے قاصر ہوں معذور ہوں ہاں ! کھرپہ پھاوڑا کوئی چاہے توکوٹ چھیت پیٹ کرہاتھ دوں ۔
اسی طرح مسائل فقہیہ کی تحقیق میرا کام نہیں جہاں یہ کام ہوتا ہو وہاں جاؤ اگر خاموش بیٹھنے کی برداشت نہیں ہوسکتی تو خود بیٹھنے ہی کی کیا ضرورت ہے بس ہیٹھے بیٹھے جوش اٹھتا ہے کہ لاؤ بے کار بیٹھے مسائل ہی پوچھ لیں بے کار سے تواچھا ہے آپ نے مجلس کی یہ قدر کی ۔ میں پوچھتا ہوں کہ دیوانی کے حاکم کے یہاں کوئی فوجداری کا مقدمہ لیجائے بے جوڑ بات ہے یا نہیں خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا اور فہم تو بدنام ہے اصل چیز وہی بے فکری ہے اگر فکر ہوتی تو پہلے مجھ سے دریافت کرلیتے کہ میں فلاں شخص ہوں صبح آیا ہوں مجھ کو ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے اجازت چاہتا ہوں مگر کچھ نہیں جو جی آیا کہنا شروع کردیا کوئی اصول ہی نہیں بولنے کے موقع پرخاموش اور خاموشی کے موقعہ پر بولنا ۔
اب میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں آپ کو بولنے کا بڑا شوق ہے اب دیکھتا ہوں کیسے بولنے والے ہیں وہ پوچھنے کی بات یہ بات ہے کہ اگر میں کام سے فارغ ہوتا جو میں نے اپنے ذمہ لیا ہے تو کیا پڑھنے پڑھانے کا مشغلہ نہ رکھتا جب یہ مشغلہ نہیں تو سمجھ لیجئے کہ میں فارغ نہیں پھر مشغول آدمی کو دوسرے شغل میں لگانا کیا بے موقع نہیں اس کا جواب دیجئے اس پروہ خاموش رہے ۔ فرمایا جواب دیجئے آپ کو تو بولنے بلانے کا مشغلہ پسند ہے اب وہ بسندیدگی کہاں گئی ۔
افسوس ہے کیوں آپ لوگ آکر خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور مجھ کو بھی پریشان کرتے ہیں میں اپنے اس طرز کے متعلق آپ سے کیا عرض کروں مگر کچھ عرض کرتا ہوں پہلے جس زمانے میں سفر کرتا تھا اس وقت کی خدمت میں اور جب سے سفر بند ہوا ہے اس وقت کی خدمت میں زمین آسمان کا فرق ہے الحمداللہ جب سے نکما ہوکر پڑگیا ہوں اور اکثر اصلاح کے باب میں لوگوں سے لڑائی بھڑائی رہتی ہے میں تو کھلی آنکھوں مشاہدہ کرتا ہوں کہ لوگوں کو بے حد نفع ہے اس لئے میں خیر خواہی سے آپ سے کہتا ہوں کہ مجلس میں خاموش بیٹھے رہا کیجئے اس کا نفع اس وقت آپ کو محسوس نہ ہوگا مگر یہاں سے جانے کے بعد آپ محسوس کریں گے تب اس بولنے پرخاموشی کو ترجیح دیں گے ۔ ایک اور ضرورت بات عرض کرتا ہوں کہ اگر یہاں قیام طویل ہوتب تو تعلیم کی درخواست کا مضائقہ نہیں اور اگر قیصر ہوتو صرف ملاقات اور مجلس میں بیٹھنے پر اکتفا کرنا چاہئے یہ ضروری اصول ہیں مگر آپ کو یہ اصول معلوم نہ تھے تویہ کیا مشکل ہے کہ آپ مجھ سے دریافت کر لیتے مگر نہیں دریافت کیا اس بے فکری کو خدا غارت کرے باستثناء قلیل قریب سب ہی کو اس بلاء میں ابتلاء ہے یا تو اس طریق کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اوراگر اس طرف متوجہ ہوئے بھی تو یہ نور برسایا خوب کہا ہے
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی ٭ تلافی کی بھی ظلم نے تو کیا کی حضرت یہ راہ بڑی ہی نازک ہے قدم قدم پرغور اور فکر کی ضرورت ہے اس کی نزاکت پرایک حکایت یاد آئی ایک مرید کو جو شیخ کی خدمت میں رہتے تھے وسوسہ ہوا کہ دنیا میں بڑے بڑے مشائخ ہیں اوروں کو بھی چل کردیکھنا چاہئے شاید وہاں نفع زیادہ ہو۔ شیخ کو اطلاع ہوگئی قرائن سے یا کشف سے کہ مرید کو دوسری طرف میلان ہے کہ دنیا میں دوسرے مشائخ بھی ہیں مگر شیخ نے ظاہر نہیں فرمایا اور اس خاص لطیف عنوان سے فرمایا کہ بھائی بزرگوں نے سیاحت بھی کی ہے فامشوا فی مناکبھا ( سوتم اس کے رستوں میں چلو 12) کے اقتضاء سے سنت بھی اگر جی چاہے تم بھی سیاحت کر آؤ یہ مرید بہت خوش ہوا کہ میرانام بھی نہ ہوا اور کام بھی ہوگیا ۔ سیاحت میں چلا جاکر دیکھا کہ سب جگہ اندھیرا ہے مطلب یہ کہ اسے کچھ نظر نہیں آیا یہ ضروری نہیں کہ دوسری جگہ واقع میں بھی کچھ نہ تھا مگر حصوصیت استعداد سے مناسبت کے موقع کا اثر قلب پراس کا مصداق ہوتا ہے ۔
آفا قہا گردیدہ ام مہر بتاں و رزیدہ ام ٭ بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیز ے دیگری
( تمام جہاں چھان ڈالے بہت مجبوبوں سے محبت کرکے آزمایا ، ہزاروں حسینوں کو دیکھا لیکن تم تو کچھ چیز ہی اور ہو ، جس کا بیان مین لانا ہی مشکل ہے )
شیخ کی خدمت میں واپس آگئے دیکھ کرفرمایا کہ ہو آئے جی بھرگیا ، ارمان نکل گیا اب تو گھٹنے توڑ کر بیٹھو گے تب مرید کو معلوم ہوا کہ شیخ کو میرے خیال پراطلاع ہے دیکھئے کیسا سخت مریض تھا کیسا نازک علاج کیا ۔
