(ملفوظ 296)بے فکری کے کرشمے :

خواجہ صاحب نے عرض کیا جن صاحب نے میرا واسطے سے گفتگوکی تھی اور ان کو مسجد میں بیٹھ جانے کو حضرت والا نے فرمایا تھا ۔ وہ پھر میرے واسطے سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا کہ وہ ابھی دق کرچکے ہیں پہلے یہ معلوم کرلیجئے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں تب اجازت دوں گا خواجہ صاحب نے ان صاحب سے دریافت کرکے عرض کیا کہ اپنے قصورکی معافی چاہتے ہیں فرمایا کہ اب اجازت ہے آپ کو واسطہ بننے کی ان سے پوچھئے کہ آخری ایک ایسی صریح بات میں غلطی کی اور باوجود مکررسہ کررتنبیہ کے بھی آپ اپنی حرکت سے باز نہ آئے اس کی کیا وجہ تھی عرض کیا کہ یہ نہ معلوم تھا کہ اتنی بات سے متاثر ہوجائیں گے فرمایا سے پوچھئے کہ اگر کوئی متاثر بھی نہ ہوکسی کو تکلیف بھی نہ ہومگر وہ خطاب لغو تو ہوا جب دوسرا نہ سن سکا عرض کیا کہ بیشک لغو ہوا فرمایا ان سے پوچھئے کہ اب اس کا تدارک ہے عرض کیا کہ معافی کا خواستگارہوں آئندہ ایسی بڑی غلطی نہ کروں گا جس کا دوسرے لفظوں میں یہ حاصل ہوا کہ تھوڑی سی تکلیف دینا تو گوارا ہے زیادہ گوارہ نہیں اپنے نزدیک تو بڑا سوچ کرجواب دیا کہ اس پرکوئی اشکال نہ پڑے مگروہی بیہودگی کی بیہودگی یہاں ایسوں کی گزر مشکل ہے یہ ایسی جگہ کا ر آمد ہوں گے جہاں مجلس آرائی اور خالی دربارواری ہوتی نہیں یہ سب بے فکری کے کرشمے ہیں جب استفادہ انسان کو مقصود ہوتا ہے فکر سے کام لیتا ہے عرض کیا کہ آئندہ ایسا نہ کروں گا اور جوہوا اس کی معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ جو کیا اس میں سوال ہے کہ کیوں ہوا اور کیوں ایسا کیا یہ کہتے ہوں گے کہ کہاں آپھنسے اور میں کہتا ہوں کہ کن سے پالا پڑا عرض کیا کہ جواس کا تدارک ہو میں اس کے لیے تیار ہوں فرمایا کہ بات تو کام کی کہی مگر اس وقت تو تدارک کا سوال نہیں سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں کیا پھر فرمایا کہ دیہاتی لوگ آتے ہیں وہ بھی ایسی حرکت نہیں کرتے یہ ان دیہاتیوں سے بھی پرلے دیہاتی ہیں کیا اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ آہستہ آہستہ بولنے سے دوسرا نہ سنے گا اتنی بھی خبر نہیں دودھ پیتے بچے ہیں عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ معاف ہے مگر چونکہ آپ سے مناسبت نہیں اور نفع کیلئے جانبین کی مناسبت شرط ہے اس لئے میں آپ کی خدمت سے معذور ہوں عرض کیا کہ آئندہ جوکام یا جوبات کروں گا سوچ کے ساتھ کروں گا دریافت فرمایا کہ قیام کب تک رہے گا عرض کیا کہ کل نماز فجر چلا جاؤں گا فرمایا کہ مناسب ہے عرض کیا کہ مکاتبت کی اجازت فرمادی جائے فرمایا کہ اس وقت قلب پر اثر ہے اور یہ بھی نہیں بتلاسکتا کہ اب زائل ہو نہ اس کا زائل کرنا میرے اختیار میں ہے اس لئے اس وقت اس قسم کا تذکرہ بھی نہ کریں جہاں تک معاملہ پہنچ چکا اس کو وہاں ہی تک چھوڑ دیا جائے عرض کیا کہ کل جارہاہوں فرمایا کہ رہیں یا جائیں میں منع نہیں کرتا اور یہ رنج سے نہیں کہہ رہا ہوں اگر رہیں سرآنکھوں پر مگران کو یہ سبق ملا ہے اب کہیں ایسی حرکت نہ کریں گے یہ تو ادب سمجھے کہ آہستہ بولے اور یہ نہ سمجھے کہ اگر زور سے نہ بولا تو دوسرا سنے گا نہیں تکلیف ہوگی بس رسموں نے تباہ کیا ہے اس کی تعلیم دیجاتی ہے کہ بلند آواز سے نہ بولو دیکھئے اپنا توکام لیکر آتے ہیں اپنی ہی حاجت مگردوسرے کو اہتما کرنا پڑے یہ تو آنے والے کا فرض ہے کہ آکر صاف اور پوری بات کہہ دے اورایسی آواز سے بولے کہ دوسرا اس کو سن سکے یہ سب گفتگو خواجہ صاحب کے واسطے سے ہوئی فرمایا کرسکتے ہیں صبح کو بہت سویرے جائیں گے اس وقت میں یہاں نہ ہوں گا ان سے کہہ دیجئے کہ بعد نماز مغرب ایسی جگہ کھڑے ہوجائیں گےا س وقت میں یہاں نہ ہوں گا ان سے دیجئے کہ بعد نماز مغرب جگہ کھڑے ہوجائیں یہاں مجھ کو یہ شبہ نہ ہو کہ میرے انتظار میں ہیں خانقاہ کے دورازہ پرکھڑے ہوجائیں جب میں جانے لگوں تو زبان سے کہ دیں کہ میں صبح کو جارہا ہوں ملنا چاہتا ہوں میں انشاءاللہ مصافحہ کرلوں گا بعض لوگ مصافحہ کیلئے ایسی جگہ بیٹھتے ہیں کہ مجھ کو یہ محسوس ہو کہ میرے منتظر ہیں قلب پربار ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقاضا ہے کہ اٹھو ہم تمہارے انتظار میں ہیں سو ایسی جگہ بیٹھنا یا کھڑا ہونا چایئے جس سے دوسرے کو یہ نہ معلوم ہوکہ یہ میرے انتظارمیں ہے خواجہ صاحب نے عرض کیا حضرت وہ صاحب میرا شکریہ ادا کررہے تھے کہ تم کو بڑی تکلیف ہوئی فرمایا نہیں جی مسلمان کی خدمت طاعت ہے اسی فرماتے ہیں
طریقت بجز خدمت خلق نیست ٭ بہ تسبیح وسجادہ ودلق نیست
( طریقت خدمت خلق ہی ہے ۔ ( صرف ) تسبیح ومصلی کا نام نہیں ہے ۔ 12)
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ اس وقت مجلس میں آکر بیٹھ سکتے ہیں فرمایا کہ کیوں نہیں بیٹھ سکتے خدانخواستہ مجھ کو کسی سے بغض تھوڑا ہی ہے اس وقت ان سے تکلیف پہنچی تھی اس لئے مسجد میں بیٹھ جانے کو کہہ دیا تھا اب وہ معاملہ ہی ختم والا کا ترحم اور سفقت طالبوں کے حال پراس واقعہ سے ظاہر ہے نیز جو کچھ معاملہ بصورت مواخذہ یا محاسبہ کیا جاتا ہے وہ اصلاح کی غرض سے ہوتا ہے احقرجامع ۔12 منہ)