ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو بڑے بڑے ششہ الفاظ بولنے کا شوق ہوتا ہے مگر بوجہ علم نہ ہونے کے موقع اور محل کی تمیز نہیں ہوتی ـ اس پر فرمایا کہ ایک صاحب ہیں یہاں کے رہنے والے ـ ان کو پر شوکت الفاظ بولنے کا بہت شوق ہے ـ ایک جگہ بسبیل گفتگو کہنے لگے کہ فلاں معاملہ میں میں بھی ثالث بالخیر تھا ـ ایک صاحب علم نے فرمایا کہ صاحزادے سوچ سمجھ کر بولا کرتے ہیں ـ ثالث بالخیر اصطلاح میں ولدالزنا کو کہتے ہیں ـ ایک صاحب دوسرے صاحب کا واقعہ ہے کہ ایک جگہ تعزیت میں گئے کسی کے بیٹے کا انتقال ہو گیا تھا اور لوگ بھی تعزیت کیلئے آئے ہوئے تھے ـ اس میں سے کسی صاحب نے تعزیت فرماتے ہوئے کہا کہ حق تعالٰی آپ کو اسکا نعم البدل عطا فرمائیں ـ یہ صاحب بھی سن رہے تھے ـ بس ان کے ایک بات ہاتھ آگئی کہ جہاں تعزیت میں جایا کرتے ہیں یہ کہا کرتے ہیں ـ ایک جگہ اتفاق سے ایک صاحب کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا ـ یہ تعزیت کے لئے پہنچے کہتے ہیں حق تعالٰی آپ کو اس کا نعم البدل عطا فرمائیں ـ اس کے یہ معنی ہوئے کہ آپ کی اماں دوسرا خصم کرے ـ کس قدر اس شخص کو ناگوار ہوا ہوگا ـ ایک ہندو رئیس کے باپ کا انتقال ہوا ایک دوسرے ہندو صاحب تعزیت کو گئے جا کر تعزیت کی اور اس میں یہ الفاظ کہے کہ خدا کرے آپ اپنے والد صاحب کے قدم بقدم ہوں اور ضرور ہوں گے کیونکہ عاقبت گرگ زادہ گرگ شود ـ
