( ملفوظ 431 )بغیر حنفی مذہب سلطنت نہیں چل سکتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک انگریز کا قول دیکھا ہے وہ کہتا ہے کہ بغیر حنفی مذہب کے سلطنت چل نہیں سکتی کیونکہ اس قدر توسع اور مراعات مصالح دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتیں ۔ مگر باوجود اتنے توسع کے پھر بھی وجدان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات اس وقت ہوتے تو اس زمانہ کی حالت کی پر نظر کر کے غالبا اور توسع کرتے مگر ہماری تو ہمت نہیں پڑتی اپنے اندر قوت اجتہاد بھی نہیں پھر نااہلوں سے بھی ڈر لگتا ہے نہ معلوم کیا گڑبڑ شروع کر دیں یہ تو بدوں اہل فتوی کے توسع ہی کے حدود سے نکل کھڑے ہوئے پھر اس کی مثال میں کہ بعض جزئیات میں غالبا زیادہ توسع فرماتے یہ فرمایا کہ مثلا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت دارالحرب میں رہتی ہو تو اس کے متعلق بعض ابواب سیاسیہ میں کیا احکام ہیں ۔ مفصل مستقل طور پر مدون نہیں اور اس کا ذکر غالبا اس وجہ سے نہیں فرمایا کہ ان حضرات کو اس کا وہم گمان بھی نہ تھا کہ کبھی ایسا ہو گا کہ مسلمان کفار کے ماتحت ہونگے باقی تفصیل و استقلال کی نفی سے نفس احکام کا غیر مذکور ہونا لازم نہیں آتا اور وہ بھی کافی ہے اس کے کافی ہونے کے بعد اب کسی کے اجتہاد کی ضرورت نہیں ۔ اب ایسوں کے لئے اپنی رائے سے فتوی دینے سے سکوت ہی اسلم ہے کیونکہ بعض سکوت کبھی بعض نطق سے اچھا ہوتا ہے ۔
اس پر ایک حکایت یاد آئی ایک بہو کسی گھر میں بیاہی ہوئی آئی مگر بولتی نہ تھی ساس نے کہا کہ بہو بولتی کیوں نہیں کہا کہ اماں نے منع کر دیا ہے ساس نے کہا کہ ماں تو تیری بے وقوف ہے تو بولا کر بہو کہتی ہے کہ بولوں کہا ضرور بول ۔ بہو کہتی ہے کہ اگر تمہارا بیٹا مر گیا تو مجھ کو بیوہ بٹھائے رکھو گی یا کہیں نکاح کر دو گی ۔ ساس نے کہا کہ تیرے ماں نے ٹھیک کہا تھا تو تو خاموش ہی اچھی ۔ یا تو بہو بولتی نہ تھی اور بولی تو یہ نور برسائے ۔ یہی حالت ہے اکابر کے اصول کو چھوڑ کر نئے لوگوں کے بولنے کی ۔