ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو حق نا حق کو دیکھا ہی نہیں جاتا بس یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لکھا کس نے بیان کیا کس نے بس پھراگرلکھنے والا کہنے والا ان کے مزاق کے خلاف ہوا تو چاہے اس کا قول ہی ہو مگر اس کے رد کی فکر میں لگ جاتے ہیں اب بہشتی زیور ہی ہے اس میں تمام فقہ ہی کے مسائل ہیں جوفقہ کی کتابوں سے لکھتے گئے ہیں مگر چونکہ میری طرف منسوب ہیں اس لئے وہ قابل رو ہیں یہ دین ہے یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص نے اپنے حقیقی بھائی کو ماں کی گالی دی کسی نے کہا کہ اس کی ماں اور تیری ماں دو تھوڑا ہی ہیں جواب میں کہتا ہے کہ اس میں دو حثیتیں ہیں ایک اس کی ماں ہونے کی اور ایک میری ماں ہونے کی اس کی ہونے کی حیثیت سے وہ ایسی ویسی ہے یہی حال ان حاسدین کا ہے معاصرت بھی بڑے غضب کی چیز ہے اس میں خواہ مخواہ بھی حسد ہوتا ہے اس حسد سے اس کوبھی مثال کا قصہ یہ ہے کہ ایام عذر میں ایک سپاہی میدان جنگ میں زخمی ہوگیا تھا یہ حکایت ماموں امداد علی صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی وہ زخم کی وجہ سے نقل و حرکت نہ کرسکتا تھا شام قریب ہونے کو تھی خیال ہوا کہ رات تنہائی میں کیسے گذرے گی دیکھا کہ ایک لالہ جی چلے جارہے ہیں آوازدی لالہ جی گھبرائے اس لئے کہ اور لاشیں بھی مردہ پڑیں تھیں وہ سمجھا کہ کوئی مردہ بھوت ہوکر پکارا رہا ہے اس نے کہا کہ گھبراؤ نہیں میں زندہ ہوں زخموں کی وجہ سے نقل وحرکت نہیں کرسکتا اور نہ آئندہ زندگی کی توقع ہے میری کمرسے روپیوں کی ہمیانی بندھی ہے یہ یوں ہی بیکار جائے گی تم کھول کرلے جاؤ تمہارے ہی کام آئیں گے روپیہ کا نام سن کرلالہ جی کے منہ میں پانی بھرآٰیا اس کے پاس پہنچے سپاہی کے پاس سے ایک تلوار رکھی تھی تلوار کا ایک ہاتھ اس کی ٹانگوں پررسید کیا لالہ جی نے کہا کہ یہ کیا کیا سپاہی نے کہا کہ بیوقوف ہوئے ہو میدان جنگ میں بھی کوئی روپیہ لے کر آتا ہے بات یہ ہے کہ میں شب کو تنہا پڑا رہتا رحشت ہوتی ( حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ تنہا ( جمع تن )کی ضرورت تھی تنہائی کی ضرورت نہ تھی اب دونوں باتیں کریں گے شب گذر جائے گی اس پر لالہ جی کیا کہتے ہیں کہ اوت نہ آپ چلے نہ اور کوچلنے دے یہ ہی حالت آج کل لوگوں کی ہے کہ نہ آپ چلیں نہ اور کو چلنے دیں فلاں مولوی صاحب کو جو کہ محبت سے یہاں بکثرت آتے ہیں فلاں مدرسہ میں ان کے بعض معاصرین نے یہاں کے آنے پرکہا کہ میاں کہا جایا کرتے ہو وقت خراب کرنے کتب بینی کرو استعداد بڑھے گی یہ بھی وہی بات ہے کہ نہ خود کچھ حاصل کریں نہ اور کوکرنے دیں میں نے مولوی صاحب کے اس ذکرکرنے پران سے پوچھا کہ میں دعویٰ تو نہیں کرتا مگر معاملہ کی بات ہے کہ جب سے یہاں آنے لگے ہوکچھ درسی کتابوں میں بھی زائد سمجھ پیدا ہونے لگی ہے انہوں نے کہا کہ بہت کچھ جو اشکالات ساری عمر میں بھی حل نہ ہوئے تھے وہ یہاں کے آنے کی بدولت چند روز میں حل ہوگئے فرمایا کہ ان کا جواب تو یہی کافی ہے کہ میںدرسیاست ہی کی تکمیل کے لئے جاتا ہوں اور یہ جواب توان کے مذاق کے موافق کتابوں کے متعلق ہے باقی اس سے قطع نظر صحبت تو وہ چیز ہے کہ اس سے ذوق صحیح پیدا ہوکر قرآن وحدیث کا مدلول سمجھ میں آنے لگتا ہے اور معترض کے اختلاف پر میں ایک جماعت کے صدر ہیں ان تحریکات میں ان کو مجھ سے اختلاف ہے مگر خلاف نہ اس وقت تھا نہ اب ہے میں تحریک خلافت میں برابر یہی کہتا تھا کہ اختلاف کا مضائقہ نہیں مگر یہ عداوت کیسی کہ سب وشتم کرتے ہو جوشریعت کے بھی خلاف اور شرافت کے بھی خلاف ۔
