( ملفوظ 506)بیل اور قصائی کی تمثیل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ میرے مواخذات کو دیکھ کر کہتے ہوں گے کہ کس قصائی سے پالا پڑا اور میں ان کی بدتمیزی کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ کن بیلوں سے پالا پڑا بیل و قصائی میں ایک تقابل بھی ہے بات یہ ہے طبیعتوں میں آزادی کی زہریلی ہوا گھسی ہوئی ہے چاہتے ہیں کہ ہو تو جائیں سب کچھ مگر نہ ہم کو کوئی کچھ کہے اور نہ کرنا پڑے یہ کیسے ہو سکتا ہے کسی کو اولاد کی تو تمنا ہو مگر نہ رشتہ بھیجے نہ کہیں آنا جانا پڑے نہ نکاح ہوا اور اولاد ہو جائے ـ ایں خیال ست و محال ست و جنوں ـ
28 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ