( ملفوظ 622) بدعتی اور وہابی کی مختصر لفظوں میں تعریف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا فیض الحسن صاحب سہارنپوری بڑے ظریف تھے کسی نے ان سے بدعتی اور وہابی کے معنی پوچھے تو عجیب تفسیر کی فرمایا کہ بدعتی کے معنی ہیں با ادب بے ایمان اور وہابی کے معنی ہیں بے ادب با ایمان آج کل کے بدعتی اکثر شریر ہوتے ہیں پہلے لوگوں میں یہ بات نہ تھی وجہ یہ کہ وہ اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے اس کی برکت سے ان میں تدین تھا اور اب تو بکثرت فاسق فاجر ہوتے ہیں جن کو دین سے کوئی لگاؤ ہی نہیں ہوتا اور اس وقت یہی حالت غیر مقلدوں کی بھی ہے اور مزید برآں یہ کہ تہذیب سے بھی کورے ہوتے ہیں ایک صاحب کا یہاں پر اخبار آتا تھا اس میں کافر حکام و رؤساء کی مدح ہوتی تھی اور ماشاء اللہ اہل حدیث کہلاتے ہیں کفار کو اولی الامر منکم میں داخل لکھتے تھے کہاں تو یہ سوء ظن کہ بزرگان سلف کو بھی برا بھلا کہا جاتا ہے اور کہاں یہ حسن ظن کہ کفار کی مدح کی جاتی ہے یہ ان کا دین ہے بس اغراض نفسانی کو دین سمجھ رکھا ہے کہ ایسے لوگوں سے کچھ ملنے کی امید ہو گی ان کی ہی تعریف شروع کر دی میں نے لکھ دیا کہ تمہارے اخبار میں کفار کی مدح ہوتی ہے لہذا یہاں اخبار نہ بھیجا کرو ان ہی صاحب نے تفسیر بیان القرآن کے ایک مقام پر اعتراض کیا ہے نہایت ہی بد تہذیبی سے میں اس کی شکایت نہیں کرتا کہ اعتراض کیوں کیا کسی کی غلطیوں پر مطلع کرنا طاعت ہے مگر آدمیت تو ہو مگر ایسے لوگوں کو دین تھوڑا ہی مقصود ہے اور ایسے لوگ ان ہی سے باز آتے ہیں جو گنبد کی آواز ہیں کہ جیسی کہے ویسی سنے ، ہم کو غریب سمجھ کر ڈانٹ لیتے ہیں اس وقت طبائع کا یہی رنگ ہے کہ نرمی والوں کو ستاتے ہیں اور سختی والوں سے دبتے ہیں اس کی تائید میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ ایک مولوی صاحب تھے دہلی کے وہ بیان کرتے تھے کہ میں ایک رئیس کے یہاں مہمان تھا شب کو بڑے استنجے کی ضرورت ہوئی اٹھ کر بیت الخلاء گیا وہاں سے نکلتے ہوئے سنتری نے ٹوکا کون اگر میں حضرات دیوبندیوں کا طرز اختیار کرتا کہ میں ہوں حقیر فقیر پرتقصیر تو اس وقت پٹتا تھا بعد میں خواہ کچھ ہی ہوتا اس لئے ہم نے کہا کہ ہم ہیں مولانا صاحب دہلی والے تو کیا بکتا ہے نالائق اس سنتری نے عرض کیا کہ حضور پہچانا نہیں تھا ہم نے کہا ہاں اندھا ہے سارے دن تو ہم کو دیکھا پھر بھی نہیں پہچانا صبح ہونے دے تب خبر لی جائے گی بس قدموں پر گر پڑا اور ٹھیک ہو گیا یہ تو بہادروں کا قصہ ہے مگر ہم سے تو ایسی بہادری ہو نہیں سکتی ہم تو حقیر فقیر پرتقصیر ہی ہیں جو جس کے جی میں آتا ہے کہہ لیتا ہے ہمارے بزرگوں کا تو یہی طرز رہا ہے کہ اپنے کو مٹائے رہتے تھے ۔ ہم کو بھی وہی پسند ہے مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی کا ایک واقعہ یاد آیا کسی سفر میں تشریف لے جا رہے تھے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ سر پر بہت سا بوجھ لادے جا رہا ہے فرمایا لاؤ بھائی میں لے لو تو بوڑھا ہے تھک گیا ہو گا اس نے کہا کہ بھائی تو بھی تو بوڑھا ہے مولانا نے فرمایا اول تو میں ایسا بوڑھا نہیں دوسرے ذرا تازہ دم ہوں وہ غریب پہچانتا نہ تھا آخر بوجھ دے دیا آپ نے اس کے گاؤں تک پہنچا دیا راستہ میں مختلف باتیں ہوئی باتوں باتوں میں اس شخص نے یہ بھی کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مولوی مظفر حسین صاحب اس طرف آئے ہوئے ہیں بھائی اگر تجھ کو خبر ہو مجھ کو بھی خبر کر دیجیو فرمایا کہ کر دوں گا جب رخصت ہونے لگے تب فرمایا بھائی مظفر حسین میں ہی ہوں وہ بے چارہ قدموں میں گر پڑا اور بے حد نادم ہوا آپ نے اس کی تسلی کی اور بات کو ختم کیا حضرت یہ سب عشق کے کرشمے ہیں کہ اس طرح مٹا دیتا ہے اور یہی حالت ہو جاتی ہے ۔
ایں چنیں شیخے گدائے کوبکو عشق آمد لا ابالی فاتقوا
اور اس کی یہ کیفیت ہے فرماتے ہیں ۔
عشق آں شعلہ است کوچوں بر فروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
یہ ان کی دیوانگی وہ دیوانگی ہے جس کو مولانا فرماتے ہیں
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد مرعسس راہ دید و درخانہ نہ شد
ما اگر قلاش وما دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
اس مذاق کو دیوانگی کہا جاتا ہے مگر معلوم بھی ہے کہ ہزاروں ہوشیاریاں اس پر قربان ہیں نیز علاوہ عشق کے ایک بات یہ بھی ہے کہ اہل کمال کبھی ایسی چیزوں کی طرف نظر نہیں کرتے کہ اس میں ہماری سبکی ہو گی یا کیا ہو گا ان میں ایک استغنا کی شان ہوتی ہے کمال میں یہی خاصیت ہے یہ بادشاہ کو بھی منہ نہیں لگاتے آپ دیکھ لیجئے کیمیا گر کس حالت سے رہتا ہے نہ لباس درست نہ جسم صاف مگر بڑے بڑے والیان ملک کو موقع پر گدھا تک کہہ دیتا ہے یہ استغناء کس چیز کی بدولت ہے صرف کمال کی بدولت خوب کہا ہے ۔
موحد چوبرپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی برسرش
امید وہر اسش نباشد زکس ہمیں است بنیاد توحید و بس